جنید اکبر کارکنوں پر برہم، عملی جدوجہد میں بھرپور شرکت نہ کرنے پر سوالات اٹھا دیے
صرف جلسوں، نعروں یا سوشل میڈیا پر سرگرم رہنا کافی نہیں بلکہ عملی طور پر بھی پارٹی کے ساتھ کھڑا ہونا ضروری ہے۔
اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما جنید اکبر نے کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے پارٹی کارکنوں کی عملی شرکت اور گرفتار کارکنوں کی معاونت کے حوالے سے سخت سوالات اٹھائے۔
جنید اکبر نے کہا کہ عمران خان کی بہن گزشتہ کئی ماہ سے مسلسل اڈیالہ جیل کے باہر جاتی رہی ہیں اور کارکنوں سے شرکت کی اپیل کرتی رہی ہیں، تاہم ان کے بقول محدود تعداد میں کارکن وہاں پہنچے۔
انہوں نے 26 نومبر کے احتجاج کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مشکل وقت میں کارکنوں کی متوقع تعداد موجود نہیں تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ صرف جلسوں، نعروں یا سوشل میڈیا پر سرگرم رہنا کافی نہیں بلکہ عملی طور پر بھی پارٹی کے ساتھ کھڑا ہونا ضروری ہے۔
جنید اکبر کارکنان پر برہم
قیادت سے سوالات کرتے ہو آج میں بھی آپ سے سوال کرتا ہوں کہ علیمہ خان 8 مہینوں سے کال دے رہی ہیں کہ ہر ہفتے اڈیالہ جیل آؤ تو آپ میں سے کتنے لوگ اڈیالہ جیل جاتے ہیں
آپ کے وزیر اعلیٰ کو 26 نمبر چونگی پر 2 بجے سے رات 12 بجے تک روکا گیا 250 بندے بھی ساتھ… pic.twitter.com/hiH75gmKVb— Ahmad Hassan Bobak (@ahmad__bobak) July 21, 2026
پی ٹی آئی رہنما نے دعویٰ کیا کہ خیبرپختونخوا میں ہزاروں کارکن مختلف مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں، جبکہ متعدد کارکنوں کے خلاف ایک سے زیادہ مقدمات درج کیے جا چکے ہیں۔
جنید اکبر نے کہا کہ گرفتار کارکنوں سے یہ بھی پوچھا جانا چاہیے کہ ان کے قانونی اخراجات، عدالتوں میں پیشیوں، رہائش اور دیگر ضروریات کا بندوبست کون کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مشکل حالات میں کارکنوں کی عملی مدد بھی پارٹی کی ذمہ داری ہے۔
انہوں نے کارکنوں پر زور دیا کہ تنقید کے بجائے پارٹی کے لیے عملی کردار ادا کریں اور ان افراد کا ساتھ دیں جو مقدمات، گرفتاریوں اور دیگر مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔
خطاب کے اختتام پر جنید اکبر نے کہا کہ تحریک کی کامیابی کے لیے اتحاد، قربانی اور عملی جدوجہد ناگزیر ہے، جبکہ صرف دعوؤں سے نہیں بلکہ میدان میں موجود رہ کر ہی پارٹی اور کارکنوں کا ساتھ دیا جا سکتا ہے۔