کشمیر پر منافقت نہیں چلے گی،رانا ثناء اللہ کا مخالفین پر وار
حکومت میں رہتے ہوئے ایک جماعت کو کالعدم قرار دینے کا فیصلہ کیا گیا، لیکن بعد میں اسی جماعت کے حق میں بیانات دیے گئے۔
اسلام آباد: وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ نے ایک سیاسی جماعت کی قیادت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت میں رہتے ہوئے ایک جماعت کو کالعدم قرار دینے کا فیصلہ کیا گیا، لیکن بعد میں اسی جماعت کے حق میں بیانات دیے گئے۔
رانا ثناء اللہ نے کہا کہ ایک سیاسی جماعت کے سربراہ اپنی حکومت میں ایسے فیصلوں کی حمایت کرتے ہیں، مگر اقتدار سے باہر آکر ان کے برعکس مؤقف اختیار کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام اس طرزِ عمل کو بخوبی سمجھتے ہیں اور سیاسی مفاد کے لیے اختیار کی جانے والی ایسی پالیسیوں سے واقف ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کسی بھی سیاسی فائدے کے لیے ایسے بیانات دینا مناسب نہیں جو مسئلہ کشمیر اور تحریکِ آزادی کشمیر کے حوالے سے غلط تاثر پیدا کریں۔
یہاں ایک سیاسی جماعت کے سربراہ اپنی حکومت میں بیٹھ کر اپنی حکومت سے فیصلہ کراتے ہیں کہ فلاں جماعت کو کالعدم قرار دےدیا جائے اور باہر آکر اُن کے حق میں تقریر کرتے ہیں،رانا ثناءاللہ pic.twitter.com/G3peknOWPU
— Pervaiz Sandhila (@chsandhilaa) July 20, 2026
رانا ثناء اللہ نے کہا کہ پاکستان کا مؤقف ہمیشہ سے کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کی حمایت رہا ہے۔ ان کے بقول، تحریکِ آزادی کشمیر کشمیری عوام کی جدوجہد ہے اور پاکستان ہر سطح پر ان کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان اور کشمیر کے تعلقات تاریخی، مذہبی اور ثقافتی بنیادوں پر قائم ہیں، اور کشمیری عوام کے ساتھ یکجہتی پاکستان کی قومی پالیسی کا حصہ ہے۔