عمران خان کو شفاء انٹرنیشنل منتقل کرنے کی تیاری؟مہر بخاری کا دعوی ۔ منیب فاروق کی تردید
میڈیا رپورٹس کا انکشاف، اہم شخصیت کی منتقلی کا دعویٰ، دوسری جانب تردید سامنے آگئی۔
بانی پی ٹی آئی عمران خان کی ایک پرانی تصویر۔
اسلام آباد میں سیاسی اور طبی حلقوں میں اس وقت ہلچل مچ گئی جب معروف اینکر پرسن مہر بخاری کی جانب سے یہ دعویٰ سامنے آیا کہ سابق وزیراعظم عمران خان کو شفاء انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کرنے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں۔ دستاویزی رپورٹس اور ذرائع کے مطابق، ہسپتال کے اندر ایک ہزاروں مربع فٹ پر محیط وسیع و عریض تہہ خانہ (بیسمنٹ) خاص طور پر تیار کیا گیا ہے تاکہ زیر حراست یا طبی معائنے کے لیے لائے جانے والے رہنما کی بہتر دیکھ بھال کی جا سکے
ذرائع کا کہنا ہے کہ اس مخصوص اور محفوظ علاقے میں دو الگ طبی کمرے، ایک بڑا میڈیا روم اور ایک وسیع ویٹنگ ایریا قائم کیا گیا ہے، جو تمام جدید ترین طبی ٹیکنالوجی، فرنیچر اور سیکیورٹی مانیٹرنگ سسٹم یعنی جدید کیمروں سے لیس ہے۔ تاہم اس تیاری کے بعد ہسپتال کے معمول کے ایس او پیز، رسائی، پارکنگ اور سیکیورٹی پروٹوکولز میں سخت تبدیلیاں کی گئی ہیں، جس کی وجہ سے ہسپتال انتظامیہ اور عام مریضوں کو شدید دباؤ کا سامنا ہے۔ اطلاعات کے مطابق ہسپتال کے عملے اور مریضوں کے ساتھ آنے والے تیمارداروں پر بھی سخت پابندیاں عائد کی گئی ہیں جن میں باہر کے کھانے لانے پر پابندی بھی شامل ہے۔
مہر بخاری نے اپنے ایک بیان میں یہ بھی دعویٰ کیا کہ عمران خان کو اس سے قبل بھی طبی معائنے کے لیے اس ہسپتال لایا جا چکا ہے۔
دوسری جانب، معروف صحافی منیب فاروق نے اس دعوے کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ عمران خان کو شفاء انٹرنیشنل ہسپتال لانے کی فی الحال کوئی تیاری نہیں کی جا رہی، البتہ اس حوالے سے سپریم کورٹ کا حکم اپنی جگہ موجود ہے۔ مہر بخاری نے اس تردید پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اپنے ذرائع کی فراہم کردہ خبر پر قائم ہیں اور اگرچہ فوری طور پر منتقلی نہ بھی ہو، تاہم یہ ایک اہم اور مسلسل ترقی پذیر کہانی ہے جس کے بنیادی حقائق درست ہیں۔