شہباز شریف کاخطے میں مزید عدم استحکام سے گریز پر زور۔ایرانی وزیر داخلہ کی ملاقت

شہباز شریف اور عاصم منیر سے ملاقاتیں، پاک ایران تعلقات و علاقائی صورتحال کا جائزہ

July 21, 2026 · قومی

تصویر: پی آئی ڈی

 

ایرانی وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے وزیراعظم شہبازشریف اورپاک فوج کے سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات کی۔ دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات، خطے کی حالیہ صورتحال اور امن کے لیے سفارتی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

ایرانی وزیر داخلہ کا دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان حملوں کا سلسلہ جاری ہے اور پاکستان دونوں ممالک کے درمیان معطل ہونے والے عبوری امن معاہدے کی بحالی کے لیے سفارتی کوششیں تیز کر چکا ہے۔

وزیراعظم ہاؤس کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف اور ایرانی وزیر داخلہ اسکندر مومنی کے درمیان ملاقات میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی، وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ، وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری اور دیگر اعلیٰ حکام بھی شریک تھے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے خطے میں حالیہ کشیدگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تمام فریقوں پر زور دیا کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں اور ایسے اقدامات سے گریز کریں جن سے خطے میں مزید عدم استحکام پیدا ہو۔

وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان ایک دیانتدار اور مخلص ثالث اور سہولت کارکے طور پر اپنا کردار جاری رکھنے کے لیے پُرعزم ہے۔ انہوں نے اس ماہ کے آغاز میں تہران کے اپنے دورے کا ذکر کرتے ہوئے ایران کی قیادت کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔

اعلامیے کے مطابق ایرانی وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے پاکستانی قیادت کی میزبانی پر شکریہ ادا کیا اور ایران کی قیادت کی جانب سے وزیراعظم شہباز شریف کے لیے نیک تمناؤں کا پیغام پہنچایا۔

اسکندر مومنی نے کہا کہ ان کا دورہ دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے مقصد سے کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی ان سفارتی کوششوں کو بھی سراہا جن کے نتیجے میں “اسلام آباد مفاہمتی یادداشت” طے پائی۔

دو سرکاری عہدیداروں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر امریکی خبر رساں ادارے کو بتایا کہ اسکندر مومنی نے  فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات کی۔

حکام نے  تاحال فیلڈ مارشل عاصم منیر اور اسکندر مومنی کے درمیان ملاقات کی تفصیلات جاری نہیں کیں۔

ایران کی نیم سرکاری نیوز ایجنسی تسنیم کے مطابق یہ دورہ ایرانی صدر مسعود پزشکیان کی اس ہدایت کے تناظر میں ہو رہا ہے، جس میں انہوں نے پاکستان کے ساتھ سالانہ تجارت کا حجم 3 ارب ڈالر سے بڑھا کر 10 ارب ڈالر تک لے جانے کا ہدف مقرر کیا ہے۔

ایرانی وزیر داخلہ کے دورے کے دوران ایران اور امریکہ