خارجی سہولت کار کے انکشافات سے دہشت گردی کابڑا نیٹ ورک بے نقاب
ملزم نے اپنے ماضی کی سرگرمیوں اور بعض شدت پسند عناصر سے مبینہ روابط کے حوالے سے بھی بیان ریکارڈ کرایا ہے،تحقیقاتی ذرائع
قانون نافذ کرنے والے اداروں کی تحویل میں موجود ایک خارجی سہولت کار کے انکشافات کے بعد دہشت گردی سے متعلق تحقیقات میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ تحقیقاتی ذرائع کے مطابق زیرِ حراست ملزم نے دورانِ تفتیش بھتہ خوری، غیر شرعی فتاویٰ اور شدت پسند عناصر سے مبینہ روابط کے حوالے سے متعدد اہم معلومات فراہم کی ہیں، جن کی روشنی میں مزید تحقیقات جاری ہیں۔
تحقیقاتی ذرائع کے مطابق ملزم نے بتایا کہ اس نے درسِ نظامی کی تعلیم جامع نظام العلوم بنوں کے شعبہ یتیم خانہ سے حاصل کی، جبکہ بعد ازاں تخصص فی الفقہ کی تعلیم المرکز الاسلامی غوریوالہ سے مکمل کی۔ اس نے دورانِ تفتیش یہ بھی دعویٰ کیا کہ وہ ماضی میں ایک شدت پسند گروہ کے بعض ارکان کے ساتھ رابطے میں رہا۔
ذرائع کے مطابق ملزم نے بیان دیا کہ بعض شدت پسند عناصر بھتہ خوری، سرمایہ کاروں کو دھمکانے اور دیگر غیر قانونی سرگرمیوں کے لیے اس سے مذہبی فتاویٰ حاصل کرتے تھے۔ اس نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ اسے مختلف مواقع پر مالی فوائد اور دیگر مراعات کی پیشکش کی گئی تاکہ وہ ان سرگرمیوں میں معاونت کرے۔
تحقیقاتی ذرائع کے مطابق ملزم نے اپنے بیان میں کہا کہ شدت پسند عناصر مذہب کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہیں اور ان کی سرگرمیوں کا اسلامی تعلیمات سے کوئی تعلق نہیں۔ تاہم ان تمام بیانات کی آزادانہ یا عدالتی سطح پر تصدیق تاحال نہیں ہوئی۔
سکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کے انکشافات سے ظاہر ہوتا ہے کہ شدت پسند تنظیمیں اپنے مقاصد کے لیے مختلف ذرائع استعمال کرنے کی کوشش کرتی ہیں، اس لیے غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام، مؤثر نگرانی اور قانون پر مکمل عمل درآمد ضروری ہے۔
ماہرین کے مطابق ملک میں تمام تعلیمی اداروں، خصوصاً رجسٹرڈ اور غیر رجسٹرڈ مدارس کی شفاف رجسٹریشن، نگرانی اور متعلقہ قوانین پر عمل درآمد سے انتہا پسندی اور دہشت گردی کے تدارک میں مدد مل سکتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مدارس کی رجسٹریشن اور نگرانی سے متعلق پالیسیوں پر مؤثر عمل درآمد وقت کی اہم ضرورت ہے۔