کراچی ،نادرا کے افسر فیاض احمد سانگی کی گمشدگی کا مقدمہ درج

فیاض احمد سانگی 20 جولائی کی شام دفتر سے گھر روانہ ہوئے تھے، تاہم وہ معمول کے مطابق گھر نہ پہنچ سکے

July 22, 2026 · قومی

کراچی میں نادرا کے افسر فیاض احمد سانگی کی گمشدگی کا مقدمہ ان کے والد اور سینیئر صحافی سہیل سانگی کی مدعیت میں درج کر لیا گیا ہے۔ پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں جبکہ اہل خانہ نے ان کی بازیابی کے لیے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔

ایف آئی آر کے مطابق فیاض احمد سانگی 20 جولائی کی شام دفتر سے گھر روانہ ہوئے تھے، تاہم وہ معمول کے مطابق گھر نہ پہنچ سکے۔ اہل خانہ نے رابطے کی کوشش کی تو ان کا موبائل فون بند ملا۔

سہیل سانگی کے مطابق ان کے بیٹے نادرا کے عائشہ منزل دفتر میں اسسٹنٹ ڈپٹی ڈائریکٹر کے عہدے پر تعینات ہیں۔ ساتھیوں کے مطابق فیاض احمد شام تقریباً 6 بجے دفتر سے روانہ ہوئے تھے، جس کے بعد ان سے رابطہ نہیں ہو سکا۔

اہل خانہ نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ فیاض احمد کو نامعلوم افراد اپنے ساتھ لے گئے ہیں، جبکہ پولیس سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ واقعے کی مکمل تحقیقات کرتے ہوئے انہیں جلد بحفاظت بازیاب کرایا جائے۔

فیاض احمد سانگی کی گمشدگی پر کراچی پریس کلب، سندھ پولیس اور انسانی حقوق کمیشن پاکستان سمیت مختلف حلقوں نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔

کراچی پریس کلب نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ایک سرکاری افسر کا اچانک لاپتہ ہونا انتہائی سنجیدہ معاملہ ہے، متعلقہ اداروں کو فوری اقدامات کرتے ہوئے ان کی بازیابی یقینی بنانی چاہیے۔

سندھ پولیس کے ترجمان کے مطابق آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو کی ہدایت پر پولیس حکام سہیل سانگی سے رابطے میں ہیں اور فیاض احمد کی تلاش کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ترجمان کے مطابق ایڈیشنل آئی جی کراچی معاملے کی نگرانی کر رہے ہیں۔

ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان نے بھی فیاض احمد سانگی کی گمشدگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سندھ حکومت سے ان کی بحفاظت بازیابی کے لیے کوششیں تیز کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

دوسری جانب مختلف صحافتی اور سماجی تنظیموں نے بھی فیاض احمد سانگی کی گمشدگی پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے حکام سے فوری کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

پولیس کے مطابق معاملے کی تحقیقات جاری ہیں اور فیاض احمد سانگی کی تلاش کے لیے مختلف پہلوؤں سے کام کیا جا رہا ہے۔