خیبر میڈیکل یونیورسٹی میں پہلے روبوٹک سرجری کورس کا آغاز
کورس کا مقصد سرجنز کو روبوٹک اور کم سے کم چیرا لگا کر کی جانے والی جدید سرجری کی تکنیکوں سے روشناس کرانا اور انہیں عملی تربیت فراہم کرنا ہے۔
پشاور: خیبر میڈیکل یونیورسٹی (کے ایم یو) پشاور میں پاکستان کے پہلے روبوٹک سرجری کورس کی افتتاحی تقریب منعقد ہوئی، جسے جدید جراحی تعلیم اور صحت کے شعبے میں اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
تین روزہ تربیتی کورس 22 سے 24 جولائی 2026 تک جاری رہے گا، جس کا انعقاد خیبر ٹیچنگ ہسپتال، لیپروسکوپی اکیڈمی پاکستان اور پاپولر انٹرنیشنل کے اشتراک سے کیا جا رہا ہے۔ کورس کا مقصد سرجنز کو روبوٹک اور کم سے کم چیرا لگا کر کی جانے والی جدید سرجری کی تکنیکوں سے روشناس کرانا اور انہیں عملی تربیت فراہم کرنا ہے۔
تربیتی پروگرام میں ملک بھر سے معروف سرجنز، ماہر اساتذہ، ٹرینرز اور جراحی ٹیمیں شریک ہیں۔ شرکاء کو روبوٹک اور لیپروسکوپک سرجری کے جدید طریقہ کار کی عملی مشق کرائی جا رہی ہے تاکہ وہ پیچیدہ آپریشنز میں زیادہ درستگی، بہتر کنٹرول اور جدید تکنیکی مہارت حاصل کر سکیں۔
یہ کورس ڈین خیبر میڈیکل کالج پروفیسر ڈاکٹر محمود اورنگزیب کی سرپرستی اور چیئرپرسن شعبہ سرجری پروفیسر ڈاکٹر ماہ منیر خان کی نگرانی میں منعقد ہو رہا ہے، جبکہ تربیتی سیشنز کی قیادت پروفیسر ڈاکٹر محمد زرین اور ڈاکٹر نجف نواز صدیقی کر رہے ہیں۔
افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پروفیسر ڈاکٹر محمود اورنگزیب نے کہا کہ روبوٹک سرجری جدید طبی نظام میں ایک اہم پیش رفت ہے اور ایسے تربیتی پروگرام نوجوان سرجنز کو عالمی معیار کی جدید مہارتیں سیکھنے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔
پروفیسر ڈاکٹر ماہ منیر خان نے کہا کہ معیاری طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے جدید ٹیکنالوجی سے آگاہی اور مسلسل پیشہ ورانہ تربیت ناگزیر ہے، جبکہ روبوٹک سرجری کے میدان میں مہارت مستقبل کے طبی تقاضوں کو پورا کرنے میں اہم کردار ادا کرے گی۔
پروفیسر ڈاکٹر محمد زرین کا کہنا تھا کہ روبوٹک سرجری جدید جراحی کا مستقبل ہے، کیونکہ اس سے زیادہ محفوظ، مؤثر اور درست نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کورس شرکاء کو نظریاتی علم کے ساتھ عملی تجربہ بھی فراہم کرے گا۔
ڈاکٹر نجف نواز صدیقی نے کہا کہ روبوٹک سرجری میں مہارت کے لیے عملی تربیت بنیادی اہمیت رکھتی ہے اور اس کورس کے ذریعے شرکاء کی تکنیکی صلاحیتوں کو مزید بہتر بنایا جائے گا تاکہ وہ جدید جراحی نظام کے مطابق اپنی پیشہ ورانہ مہارتوں میں اضافہ کر سکیں۔