راولپنڈی،گھریلو ملازم بچے پر تشدد،مقدمہ درج، متاثرہ بچے کا بیان بھی سامنے آ گیا

پہلے بھی متعدد مرتبہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔بازو پر شدید سوجن آ گئی تھی، جبکہ ٹانگ پر بھی تشدد کے نشانات موجود ہیں۔

July 23, 2026 · قومی

راولپنڈی: راولپنڈی میں کمسن گھریلو ملازم پر مبینہ تشدد کا واقعہ سامنے آنے کے بعد پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے مقدمہ درج کر لیا، جبکہ متاثرہ بچے کا ویڈیو بیان بھی منظرِ عام پر آ گیا ہے۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو نے شہریوں میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے اور واقعے کی شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔

پولیس کے مطابق متاثرہ بچے علی جبار نے اپنے ویڈیو بیان میں بتایا کہ اسے پہلے بھی متعدد مرتبہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ اس کے مطابق ایک موقع پر مارپیٹ کے باعث اس کے بازو پر شدید سوجن آ گئی تھی، جبکہ ٹانگ پر بھی تشدد کے نشانات موجود ہیں۔

بچے نے الزام عائد کیا کہ اس پر تشدد گھر کے ایک فرد عادل ساجد نے کیا۔ اس نے بتایا کہ ایک دن گھر کی چھت مناسب طریقے سے صاف نہ ہونے پر پہلے اسے ڈانٹا گیا، پھر پانی کے بغیر صفائی کرنے کا کہا گیا، اور بعد ازاں مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

واقعے کی ویڈیوز سامنے آنے کے بعد پولیس نے ملزم کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔ ایف آئی آر میں بچوں پر تشدد اور بدسلوکی سے متعلق دفعہ 328 اے سمیت دیگر متعلقہ قانونی دفعات شامل کی گئی ہیں، جبکہ ملزم کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

ایف آئی آر کے متن کے مطابق پولیس کو اس واقعے کی اطلاع سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک ویڈیو اور پوسٹ کے ذریعے ملی۔ پوسٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ایک رہائشی گھر میں کمسن گھریلو ملازم پر مسلسل تشدد کیا جا رہا ہے۔ ویڈیو بنانے والے شخص نے بتایا کہ اس نے کئی مرتبہ گھر کے سربراہ اور بعد ازاں ان کے بیٹے کو بچے پر مبینہ تشدد کرتے دیکھا۔

پوسٹ کے مطابق ویڈیو سامنے والی عمارت کے ایک فلیٹ کی کھڑکی سے بنائی گئی، جس میں مبینہ طور پر بچے کو لوہے کی راڈ سے مارا جاتا دکھایا گیا۔ ویڈیو کے ساتھ گھر کی بیرونی تصویر اور مقام کی معلومات بھی شیئر کی گئی تھیں، جبکہ پولیس سے فوری مداخلت اور بچے کی حفاظت یقینی بنانے کی اپیل کی گئی تھی۔

پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے سے متعلق تمام شواہد، ویڈیوز اور متاثرہ بچے کے بیان کا تفصیلی جائزہ لیا جا رہا ہے۔ حکام کے مطابق اگر تحقیقات میں مزید شواہد سامنے آئے تو مقدمے میں مزید دفعات بھی شامل کی جا سکتی ہیں۔

دوسری جانب بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے سماجی حلقوں نے واقعے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ کمسن گھریلو ملازمین کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے قوانین پر مؤثر عمل درآمد کیا جائے اور ایسے واقعات میں ملوث افراد کو قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے۔

پولیس نے کہا ہے کہ تحقیقات میرٹ پر جاری ہیں اور قانون کے مطابق ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی کی جائے گی، جبکہ متاثرہ بچے کو ہر ممکن قانونی اور حفاظتی معاونت فراہم کرنے کے اقدامات بھی کیے جا رہے ہیں۔