نیب مقدمات کی اپیلیں اب وفاقی آئینی عدالت میں سنی جائیں گی، سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ
آئینی عدالت بننے سے پہلے کے مقدمات پر بھی اطلاق ہوگا، فیصلہ عمران خان اور بشریٰ بی بی کی درخواستوں پر بھی اثرانداز ہو سکتا ہے
سپریم کورٹ نے اپنے اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ قومی احتساب آرڈیننس (نیب قانون) میں 27ویں آئینی ترمیم کے بعد احتساب مقدمات سے متعلق وفاقی آئینی عدالت (ایف سی سی) کے تمام معاملات، خواہ وہ ترمیم سے پہلے سپریم کورٹ میں زیر التوا ہوں یا بعد میں دائر کیے گئے ہوں، وفاقی آئینی عدالت کو منتقل کیے جائیں گے۔
عدالت نے قرار دیا کہ نیب آرڈیننس کی دفعہ 32-اے کے تحت متعارف کرایا گیا اپیل کا حق ایک قانونی حق ہے، جس کا اطلاق ماضی سے بھی ہوگا۔ اس فیصلے کے نتیجے میں سپریم کورٹ میں زیر التوا تمام دیوانی درخواستیں، جن میں اپیل کی اجازت مانگی گئی تھی، خودکار طور پر دوسری براہ راست اپیلوں میں تبدیل ہو جائیں گی، جبکہ جن فوجداری درخواستوں میں اپیل کی اجازت پہلے ہی دی جا چکی ہے، انہیں بھی وفاقی آئینی عدالت سنے گی۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ 27ویں آئینی ترمیم کے بعد نیب آرڈیننس میں دوسری اپیل کی شق ملزمان کے لیے بڑی حد تک فائدہ مند اور اصلاحی نوعیت کی ہے، تاہم اس کا اطلاق ان مقدمات پر نہیں ہوگا جن کا فیصلہ ترمیم سے قبل ہو چکا اور وہ مکمل طور پر نمٹائے جا چکے ہیں۔
فیصلے میں کہا گیا کہ دوسری اپیل کے حق نے احتساب مقدمات میں آخری اپیل کا فورم سپریم کورٹ سے وفاقی آئینی عدالت منتقل کر دیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی اپیل کی اجازت حاصل کرنے کے صوابدیدی طریقہ کار کی جگہ اب خودکار حقِ اپیل نے لے لی ہے۔
عدالت نے محمود کے وکیل کے اس مؤقف کا بھی ذکر کیا کہ حال ہی میں نیب قانون میں ترمیم کے باوجود سپریم کورٹ نے 18 مارچ کو ضمانت سے متعلق ایک فوجداری درخواست کو اپیل میں تبدیل کر کے سنا تھا اور اس وقت نیب نے دائرہ اختیار پر کوئی اعتراض نہیں اٹھایا تھا۔
بینچ نے کہا کہ اس مقدمے میں نیب نے دائرہ اختیار پر اعتراض نہیں کیا، اس کی وجوہات وہی بہتر جانتے ہیں، تاہم موجودہ مقدمے میں انہوں نے سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے عدالت کے دائرہ اختیار کو چیلنج کیا۔
عدالت نے واضح کیا کہ دائرہ اختیار فریقین کی مرضی، خواہش یا رضامندی سے نہیں بلکہ صرف قانون کے مطابق طے ہوتا ہے، اس لیے کسی مقدمے میں اعتراض نہ اٹھانے سے عدالت کو دائرہ اختیار حاصل نہیں ہو جاتا۔
سپریم کورٹ نے مزید قرار دیا کہ اگر کوئی قانون پہلے سے موجود حق کے لیے نیا یا زیادہ مؤثر قانونی راستہ فراہم کرتا ہے تو اس کا ماضی سے اطلاق، بذاتِ خود، کسی کے حاصل شدہ حقوق کو متاثر نہیں کرتا۔
قانونی ماہرین کے مطابق یہ فیصلہ سابق وزیراعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی القادر ٹرسٹ کیس میں زیر التوا درخواستوں پر بھی اثر ڈال سکتا ہے۔
عمران خان اور بشریٰ بی بی نے مالی بدعنوانی کے مقدمے میں اپنی سزا معطل کرنے کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا، تاہم رجسٹرار آفس نے ان کی درخواستیں واپس کر دی تھیں، جس کے بعد دونوں نے رجسٹرار کے اعتراضات کے خلاف چیمبر اپیلیں دائر کر رکھی ہیں۔
ان اپیلوں میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ نیب آرڈیننس کی دفعہ 32-اے کے مطابق ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف دوسری اپیل صرف سزا یافتہ شخص یا احتساب پراسیکیوٹر جنرل وفاقی آئینی عدالت میں دائر کر سکتا ہے۔
اپیلوں میں کہا گیا ہے کہ “دوسری اپیل” کی اصطلاح سے قانون ساز کا مقصد بالکل واضح ہے اور اس میں کسی ابہام کی گنجائش نہیں۔ اس کے مطابق ہائی کورٹ کی پہلی اپیل میں دیا گیا حتمی فیصلہ ہی وفاقی آئینی عدالت میں دوسری اپیل کے ذریعے چیلنج کیا جا سکتا ہے۔