پاکستان نے ایک رات پہلےپنجاب سے بلوچستان تک فضائی حدود مکمل بند کیوں رکھی؟

زمین سے لامحدود اونچائی تک اس قسم کی بندش ہتھیاروں کے استعمال کیلئے ہوتی ہے، دفاعی جریدہ، نوٹم خاموش

July 25, 2026 · امت خاص
ملکی ماہرین کے تیار کردہ فتح-4 میزائل  کی شمولیت سے آرمی راکٹ فورس کمانڈ کی استعداد کار میں مزید اضافہ ہوگا، فوٹو آئی ایس پی آر

ملکی ماہرین کے تیار کردہ فتح-4 میزائل  کی شمولیت سے آرمی راکٹ فورس کمانڈ کی استعداد کار میں مزید اضافہ ہوگا، فوٹو آئی ایس پی آر

 

ایک رات پہلے پاکستان میں پنجاب کے اوپر پانچ گھنٹے تک پراسرار فضائی بندش معمہ بن گئی۔عالمی ہوابازی اور عسکری حلقو ں میں تاثر ہے کہ گذشتہ دنوں پاکستان نے کسی طویل حدضرب کے میزائل سسٹم کاتجربہ کیاہے۔ دفاعی جریدہ’’ ڈیفینس سکیورٹی ایشیا‘‘ کی ایک تفصیلی رپورٹ میں بتایاگیاہے کہ 23 اور 24 جولائی کی رات 5 گھنٹے تک متعدد ملکی ائرٹریفک روٹس کو لامحدودبلندی تک بند کردیاگیاتھا۔یہ وقت رات 2 بجے سے صبح 7 بجے تک تھا۔یہ عارضی نوٹس، اوپن سورس چینلز میں A0441/26 کے نام سے گردش کر رہا ہے۔

ماہرین ہوا بازی اس قسم کی پابندی کو عام سول ٹریفک مینجمنٹ کی بجائےلائیو ہتھیاروں (میزائل) کے استعمال سے منسلک کرتے ہیں۔

اس بندش کے دائرہ کار میں ایک وسیع راہداری کی نشان دہی ہوئی، جو افغانستان کی سرحد کے قریب کوئٹہ، ژوب اور واناسے شروع ہو کر مشرق کی طرف ڈیرہ اسماعیل خان، لیہ، بھکر اورلیہ کے راستے وسطی پنجاب تک جاتی ہے۔یہ محور ملتان، فیصل آباد، سرگودھا اور میانوالی والے آپریشنل ایریا میں ختم ہوتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ راہداری عام سول پروازوں کی وجہ سے نہیں بلکہ فوجی سرگرمی، ممکنہ طور پر میزائل یا راکٹ ٹیسٹنگ کی وجہ سے بند کی گئی تھی۔ امکانات خاص طور پر ’’فتح سیریز‘‘کے گائیڈڈ راکٹ یا کروز میزائل کی جانچ کا اشارہ دیتے ہیں۔اس دوران کچھ انٹرنیشنل پروازیں متاثر ہوئیں ۔

تیکنیکی تفصیلات کے مطابق ،زمین سے لامحدود اونچائی تک پابندی عمودی لیئرڈ ڈی کنفلکشن کو جان بوجھ کر ہٹا دیتی ہے، جو عام طور پر سول ٹریفک کو فوجی سرگرمی کے اوپر بلا رکاوٹ پرواز کرنے دیتا ہے۔لیکن 23اور 24 جولائی کے درمیانی رات یہ عمل کسی پروجیکٹائل کے فضاسے نکلنے اور دوبارہ داخل ہونے کی سب سے واضح تکنیکی نشانی ہے۔

پوری آپریشنل چوڑائی میں فضائی آمدورفت معطل کرکے پاکستان کیا کرتارہا ،اس بارے میں حتمی معلومات یا سرکاری بیان موجودنہیں۔تاہم تیکنیکی شواہد بتاتے ہیں کہ کسی لانگ رینج میزائل کا تجربہ کیا گیا ہے۔