امریکی جنگ کے باوجود ایران نے 18 ارب ڈالر کا تیل بیچنے کا دعویٰ کر دیا

جنگ کے دوران 11 ارب 50 کروڑ ڈالر جبکہ جنگ بندی کے عرصے میں مزید 6 ارب 50 کروڑ ڈالر کا تیل برآمد کیا گیا

ایران کی وزارتِ تیل نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ کے ساتھ جنگ اور اس کے بعد نافذ ہونے والی جنگ بندی کے دوران ملک نے مجموعی طور پر 18 ارب ڈالر مالیت کا خام تیل فروخت کیا۔

بی بی سی فارسی کے مطابق وزارتِ تیل کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ جنگ کے دوران 11 ارب 50 کروڑ ڈالر جبکہ جنگ بندی کے عرصے میں مزید 6 ارب 50 کروڑ ڈالر کا تیل برآمد کیا گیا۔ وزارت کے مطابق یہ آمدنی رواں مالی سال کے بجٹ میں متوقع تیل کی مجموعی آمدنی کے 60 فیصد سے زائد بنتی ہے۔

یہ اعداد و شمار ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر اور سینئر مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے رواں ماہ کے آغاز میں کہا تھا کہ امریکی محاصرے کے دوران، جو تقریباً 50 سے 60 روز تک جاری رہا، ایران ایک بیرل تیل بھی برآمد نہیں کر سکا تھا۔ ان کے مطابق محاصرہ ختم ہونے کے بعد ایرانی تیل کی برآمدات میں دوبارہ اضافہ دیکھنے میں آیا۔

رپورٹس کے مطابق ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی اس وقت شدت اختیار کر گئی تھی جب امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے حملوں کے بعد دونوں ممالک کے درمیان جنگ شروع ہوئی۔ بعد ازاں اپریل میں جنگ بندی کے نتیجے میں لڑائی میں کمی آئی، تاہم آبنائے ہرمز کے کنٹرول سے متعلق اختلافات دوبارہ بڑھنے پر جولائی کے آغاز میں جنگ بندی ختم ہونے کی اطلاعات سامنے آئیں۔

تاہم ایران کی وزارتِ تیل کے ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے، جبکہ امریکی حکام کی جانب سے بھی اس حوالے سے کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔