کویت نے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں میں شمولیت کی خبروں کو مسترد کر دیا
ملک نے نہ تو ایران کے خلاف کسی جارحانہ کارروائی کے لیے اپنی سرزمین، فضائی حدود یا سمندری حدود استعمال کرنے کی اجازت دی ہے
کویت نے ایران کے خلاف مبینہ فوجی کارروائیوں میں اپنی شمولیت سے متعلق امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اس نے کسی بھی ہمسایہ ملک کے خلاف فوجی کارروائی میں حصہ نہیں لیا۔
کویتی حکام کے مطابق ملک نے نہ تو ایران کے خلاف کسی جارحانہ کارروائی کے لیے اپنی سرزمین، فضائی حدود یا سمندری حدود استعمال کرنے کی اجازت دی ہے اور نہ ہی کسی ایسے فوجی آپریشن کا حصہ بنا ہے۔
حکومت نے اپنے بیان میں کہا کہ کویت خطے میں غیرجانبدارانہ پالیسی پر کاربند ہے اور علاقائی استحکام و امن کے لیے اپنی سفارتی کوششیں جاری رکھے گا۔ حکام نے ایران کے خلاف کارروائیوں میں کویت کی شمولیت سے متعلق تمام دعوؤں کو بے بنیاد قرار دیا۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی برقرار ہے۔ اس سے قبل امریکی میڈیا نے رپورٹ کیا تھا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف نئے فوجی حملوں کو فی الحال مؤخر کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ سفارتی کوششوں کو موقع دیا جا سکے۔
رپورٹس کے مطابق امریکی صدر نے کہا تھا کہ اگر ضرورت پڑی تو فوجی کارروائی کا آپشن موجود ہے، تاہم موجودہ حالات میں ایران کے ساتھ مذاکرات کو ترجیح دی جا رہی ہے۔ امریکی حکام کے مطابق فوج ممکنہ کارروائی کے لیے تیار ہے، لیکن صدر ٹرمپ نے تاحال مزید حملوں کی منظوری نہیں دی۔
کویت کے تازہ بیان کو خطے میں بڑھتی کشیدگی کے دوران اپنی غیرجانبدارانہ پالیسی کی توثیق کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔