2ماہ کے لیے مانیٹری پالیسی کا اعلان ۔شرح سود 11.50فیصد پر برقرار
مہنگائی میں کمی، کرنٹ اکاؤنٹ خسارے اور ترسیلات زر کے حوالے سے اہم پیش گوئیاں جاری
فائل فوٹو
اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے آئندہ دو ماہ کے لیے مانیٹری پالیسی کا اعلان کردیا، جس کے تحت پالیسی ریٹ کو موجودہ شرح 11 اعشاریہ 50 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے مانیٹری پالیسی کمیٹی کے فیصلے سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ پالیسی ریٹ میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ سالوں میں مہنگائی کا رجحان نیچے کی جانب رہا، جبکہ جولائی سے فروری تک اوسط مہنگائی 5.5 فیصد رہی۔ گورنر اسٹیٹ بینک کے مطابق مالی سال 2026 میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 13 کروڑ 90 لاکھ ڈالر رہا، جبکہ مالی سال 2027 میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ جی ڈی پی کے تناسب سے صفر سے ایک فیصد تک رہنے کا امکان ہے۔
جمیل احمد نے بتایا کہ دسمبر 2026 تک ترسیلات زر 20.20 ارب ڈالر رہنے کا اندازہ ہے اور عالمی حالات کے باوجود یہ تخمینہ برقرار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایکسپورٹس اور ورکرز ترسیلات زر کے بڑے ذرائع ہیں، جبکہ مالی سال 2027 میں حکومتی کوششوں سے برآمدات بہتر ہوں گی۔
گورنر اسٹیٹ بینک نے کہا کہ روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹس میں گزشتہ 4 ماہ سے 30 کروڑ ڈالر آ رہے ہیں۔ رواں مالی سال درآمدات میں اضافہ ہوگا اور مالی معاونت کے ذرائع بھی بہتر رہیں گے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ تمام ادائیگیوں کے باوجود پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ ہوا ہے، جبکہ مالی سال 2027 میں 21.5 ارب ڈالر کی بیرونی قرضوں کی ادائیگیاں کرنا ہوں گی۔