بھارت میں طلبہ تحریک پھر شدت اختیار کرنے لگی، سی جے پی کا حکومت کو انتباہ

احتجاج معطل کرنے کا فیصلہ حکومتِ ہند کی اس یقین دہانی کے بعد کیا گیا تھا کہ کسی بھی مظاہر یا منتظم کے خلاف کوئی انتقامی کارروائی نہیں ہوگی

July 28, 2026 · بام دنیا

نئی دہلی: بھارت میں تعلیمی امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں، بے روزگاری اور طلبہ کے مطالبات کے حق میں شروع ہونے والی تحریک کے بعد مختلف ریاستوں میں طلبہ اور احتجاجی کارکنوں کے خلاف کارروائیوں کے دعوؤں نے نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ متعدد مقامات سے گرفتاریوں، حراست، مبینہ تشدد اور پولیس کارروائیوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جبکہ احتجاجی تنظیم کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) نے حکومتِ ہند پر مذاکرات کے دوران کیے گئے وعدوں سے انحراف کا الزام عائد کیا ہے۔

دہلی، نوئیڈا، بہار، آسام اور مغربی بنگال سے سامنے آنے والی مختلف رپورٹس کے مطابق احتجاجی مظاہرین اور طلبہ کو مختلف کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ بعض مقامات پر احتجاج کرنے والوں کی گرفتاریوں کی اطلاعات موصول ہوئیں، جبکہ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی متعدد ویڈیوز میں پولیس کارروائیوں اور احتجاجی کارکنوں کے ساتھ مبینہ بدسلوکی کے دعوے بھی کیے گئے ہیں۔ تاہم ان ویڈیوز اور دعوؤں کی آزاد ذرائع سے مکمل تصدیق نہیں ہو سکی۔

دہلی اور نوئیڈا میں احتجاج کے دوران بعض عینی شاہدین نے دعویٰ کیا کہ چند نوجوانوں پر حملے کیے گئے۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز میں بعض افراد کو احتجاجی کارکنوں کا تعاقب کرتے اور انہیں تشدد کا نشانہ بناتے ہوئے دکھایا گیا، جبکہ ویڈیوز میں پولیس اہلکار بھی موجود نظر آتے ہیں۔ تاہم پولیس یا متعلقہ حکام کی جانب سے ان واقعات کی باضابطہ تصدیق یا تفصیلی وضاحت سامنے نہیں آئی۔

ادھر بہار کے دارالحکومت پٹنہ میں بھی احتجاج کے بعد متعدد طلبہ کو حراست میں لینے کی اطلاعات سامنے آئیں۔ مقامی میڈیا اور سوشل میڈیا پر شیئر کی جانے والی ویڈیوز میں پولیس گاڑیوں میں نوجوانوں کو منتقل کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ بعض حلقوں نے دعویٰ کیا کہ گرفتار طلبہ کے خلاف مقدمات درج کیے گئے، تاہم حکام نے اس حوالے سے کوئی تفصیلی سرکاری بیان جاری نہیں کیا۔

اسی دوران جنتر منتر پر مظاہرین کو کھانا اور پانی فراہم کرنے والے رضاکار محمد جنید ملک کا معاملہ بھی توجہ کا مرکز بن گیا۔ محمد جنید نے الزام لگایا کہ انہیں دہلی پولیس نے حراست میں لے کر کئی گھنٹوں تک پوچھ گچھ کی، ان کی آنکھوں پر پٹی باندھی گئی اور بعد ازاں اتراکھنڈ کے شہر مسوری میں چھوڑ دیا گیا۔

محمد جنید کے مطابق ان سے مسلسل یہ سوال کیا جاتا رہا کہ احتجاجی طلبہ کے لیے کھانے اور پانی کا انتظام کون کر رہا ہے اور اس کی مالی معاونت کہاں سے آ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے پولیس کو بتایا کہ تمام اخراجات عوامی عطیات اور رضاکارانہ تعاون سے پورے کیے جا رہے تھے۔

ایک ویڈیو بیان میں محمد جنید نے کہا کہ وہ صرف طلبہ کی خدمت کر رہے تھے اور انہیں سمجھ نہیں آیا کہ ان کے ساتھ مجرموں جیسا سلوک کیوں کیا گیا۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ان کے اہلِ خانہ سے بھی پولیس نے غازی آباد میں جا کر پوچھ گچھ کی اور بعض ذاتی دستاویزات طلب کیں۔

دوسری جانب اتر پردیش پولیس نے ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ نہ کسی کو غیر قانونی طور پر حراست میں لیا گیا اور نہ ہی گھر پر کوئی چھاپہ مارا گیا، البتہ معمول کی معلومات حاصل کرنے کے لیے پوچھ گچھ ضرور کی گئی تھی۔

ان تمام واقعات کے بعد کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) نے ایک تفصیلی بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ انہیں آسام، مغربی بنگال اور بہار سمیت مختلف ریاستوں سے طلبہ اور مظاہرین کی گرفتاریوں کی متعدد اطلاعات موصول ہوئی ہیں، جو انتہائی تشویشناک ہیں۔

سی جے پی کا کہنا ہے کہ احتجاج معطل کرنے کا فیصلہ حکومتِ ہند کی اس یقین دہانی کے بعد کیا گیا تھا کہ کسی بھی مظاہر یا منتظم کے خلاف کوئی انتقامی کارروائی نہیں ہوگی اور نہ ہی نئی ایف آئی آرز درج کی جائیں گی۔

پارٹی کے ترجمان اشوتوش رانکا نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ 25 جولائی کو حکومت کے نمائندوں کے ساتھ ہونے والے مذاکرات میں احتجاجیوں کے خلاف درج مقدمات واپس لینے، گرفتار افراد کی رہائی اور آئندہ نئی ایف آئی آرز درج نہ کرنے پر اصولی اتفاق ہوا تھا۔ ان کے مطابق اس معاہدے کو تحریری شکل دی جانی تھی، تاہم ابھی تک ایسا نہیں کیا گیا۔

سی جے پی نے حکومتِ ہند سے مطالبہ کیا ہے کہ گرفتار تمام طلبہ اور مظاہرین کو فوری طور پر رہا کیا جائے، درج مقدمات واپس لیے جائیں اور مذاکرات کے دوران کیے گئے وعدوں پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے۔

تنظیم نے خبردار کیا ہے کہ اگر یقین دہانیوں پر عمل نہ کیا گیا تو وہ دوبارہ ملک گیر احتجاج شروع کرنے پر غور کر سکتی ہے۔

دوسری جانب حکومتِ ہند کی جانب سے ان تمام دعوؤں پر کوئی جامع سرکاری ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ بعض ریاستی پولیس حکام نے بعض الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ قانون کے مطابق کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔

ادھر سوشل میڈیا پر بھی یہ معاملہ تیزی سے زیر بحث ہے۔ ایک طرف متعدد صارفین محمد جنید ملک اور گرفتار طلبہ کے حق میں آواز اٹھا رہے ہیں، جبکہ دوسری جانب بعض حلقوں کا مؤقف ہے کہ تمام دعوؤں کی غیر جانبدارانہ تحقیقات ہونی چاہییں تاکہ حقائق عوام کے سامنے آسکیں۔

فی الحال احتجاج، گرفتاریوں اور مبینہ کارروائیوں سے متعلق مختلف دعوؤں اور سرکاری مؤقف میں واضح اختلاف موجود ہے، جبکہ مزید سرکاری وضاحت اور آزادانہ تحقیقات کا انتظار کیا جا رہا ہے۔