نئی حج پالیسی متعارف، سرکاری حج کیلئے چار سالہ رجسٹریشن ہوگی، زائرین اپنی مرضی کے سال جا سکیں گے

مکمل طور پر ڈیجیٹل نظام سے منسلک کیا جائے گا۔ رجسٹریشن، شکایات کے ازالے، نگرانی اور بعد از حج جائزے کے تمام مراحل جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے مکمل کیے جائیں گے۔

July 29, 2026 · قومی

اسلام آباد: وفاقی وزارت مذہبی امور نے پاکستان کی پہلی چار سالہ حج پالیسی 2027 تا 2030 کا اعلان کر دیا، جس کا مقصد عازمین حج کو بہتر سہولیات، شفاف نظام اور جدید ڈیجیٹل خدمات فراہم کرنا ہے۔

وفاقی وزیر مذہبی امور کے مطابق نئی حج پالیسی کے تحت پہلی بار چار سالہ حج رجسٹریشن اور ویٹنگ لسٹ کا نظام متعارف کرایا جا رہا ہے، جس کے ذریعے عازمین اپنی سہولت کے مطابق پہلے سے حج کا سال منتخب کر سکیں گے۔

نئی پالیسی کے تحت حج انتظامات کو مکمل طور پر ڈیجیٹل نظام سے منسلک کیا جائے گا۔ رجسٹریشن، شکایات کے ازالے، نگرانی اور بعد از حج جائزے کے تمام مراحل جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے مکمل کیے جائیں گے۔

حج پالیسی 2027 تا 2030 کے مطابق سرکاری اور نجی حج اسکیم کا کوٹہ بالترتیب 60 اور 40 فیصد برقرار رکھا جائے گا، تاہم مستقبل میں وفاقی کابینہ اس حوالے سے تبدیلی کا اختیار رکھتی ہے۔

پالیسی میں کہا گیا ہے کہ رہائش، ٹرانسپورٹ، کیٹرنگ، فضائی سفر اور سامان کی ترسیل کے لیے تین سے چار سال کے معاہدے کیے جا سکیں گے، جس سے سہولیات کے معیار میں بہتری اور اخراجات میں کمی لانے میں مدد ملے گی۔

وزارت مذہبی امور کے مطابق عازمین حج رجسٹریشن کے وقت اندازاً حج اخراجات کا 10 فیصد جمع کروا کر اپنی پسند کے سال کے لیے اندراج کرا سکیں گے، جبکہ انتخاب شفاف ڈیجیٹل ویٹنگ لسٹ کے ذریعے پہلے آئیں، پہلے پائیں کی بنیاد پر ہوگا۔

نئی پالیسی کے تحت سرکاری حج اسکیم میں مختلف دورانیے کے حج پیکیجز متعارف کرائے جائیں گے تاکہ عازمین اپنی ضرورت اور سہولت کے مطابق انتخاب کر سکیں۔

حکومت نے نجی حج کمپنیوں کی نگرانی کے لیے بھی نئے اقدامات کا اعلان کیا ہے۔ نجی حج کمپنیوں کے لیے پرائیویٹ حج مینجمنٹ پورٹل کا استعمال لازمی ہوگا، جس کے ذریعے بکنگ، ادائیگیاں، نگرانی اور آڈٹ کا عمل ڈیجیٹل انداز میں مکمل کیا جائے گا۔

پالیسی کے مطابق حج آپریشن مکمل ہونے کے بعد اگر عازمین سے جمع شدہ واجبات میں کوئی رقم بچتی ہے تو وہ واپس کی جائے گی۔ اس کے علاوہ سرکاری اور نجی حج انتظامات کا تھرڈ پارٹی کے ذریعے آزادانہ جائزہ بھی لیا جائے گا۔

وزارت مذہبی امور نے عازمین حج کی تربیت، صحت، موبائل ایپس کے استعمال، ہنگامی صورتحال سے نمٹنے اور سعودی قوانین سے آگاہی کے لیے تربیتی پروگرام مزید مؤثر بنانے کا اعلان کیا ہے۔

نئی حج پالیسی میں حجاج محافظ اسکیم برقرار رکھنے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے، جس کے تحت دوران حج وفات، حادثے یا ہنگامی انخلا کی صورت میں مالی معاونت فراہم کی جائے گی۔

حکام کے مطابق ایمرجنسی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ایمرجنسی مینجمنٹ سسٹم اور خصوصی رسپانس ٹیم بھی قائم کی جائے گی۔

وفاقی وزارت مذہبی امور کا کہنا ہے کہ حج پالیسی 2027 تا 2030 کو سعودی ویژن 2030 اور عالمی معیار کے طریقہ کار سے ہم آہنگ کیا گیا ہے، جس کا مقصد عازمین حج کو شفاف، محفوظ اور آسان سفری سہولیات فراہم کرنا ہے۔