کراچی میں ساڑھے8ارب کے 4 میگا پروجیکٹ ایف ڈبلیو او کےسپرد

اگست میں تین منصوبوں پر عملی کام شروع ہوگا،فلائی اوورز،سڑکوں اور انڈر پاس کی تعمیر شامل

July 30, 2026 · قومی

فائل فوٹو

 

حکومت سندھ نے کراچی میں ساڑھے 8 ارب روپے مالیت کے چار میگا منصوبے ایف ڈبلیو او کے سپرد کر دیے ہیں، جن میں سے تین منصوبوں پر اگست کے دوران باقاعدہ آن گراؤنڈ کام شروع کیا جائے گا۔

ان منصوبوں میں سپر ہائی وے (ایم نائن) پر ناردرن بائی پاس کے قریب فلائی اوور (انٹرچینج) کی تعمیر بھی شامل ہے۔ موٹر وے کے اوپر فلائی اوور کی تعمیر کے باعث محکمہ بلدیات سندھ نے نیشنل ہائی وے اتھارٹی سے این او سی کے حصول کے لیے کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔

یہ فلائی اوور جناح ایونیو، ملیر کینٹ روڈ سے حیدرآباد اور سہراب گوٹھ سبزی منڈی سے جناح ایونیو جانے والے شہریوں کو سہولت فراہم کرے گا، جبکہ موٹر وے کے دونوں اطراف کی ٹریفک کو طویل یوٹرن لینے کی ضرورت نہیں رہے گی۔ اس منصوبے پر 2 ارب 30 کروڑ روپے لاگت آئے گی، جس میں جناح ایونیو کی بحالی اور بیوٹیفیکیشن بھی شامل ہے۔

دوسرے اہم منصوبے کے تحت موٹر وے پر الٓاصف اسکوائر کے سامنے ابوالحسن اصفہانی روڈ کو ملانے کے لیے انٹرسیکشن پر فلائی اوور تعمیر کیا جائے گا۔ اس منصوبے کی لاگت 2 ارب 10 کروڑ روپے ہے اور اس پر بھی اگست میں باقاعدہ کام شروع کیا جائے گا۔ یہ فلائی اوور ہر سمت سے آنے والی ٹریفک کو سہولت فراہم کرے گا۔

اسی طرح ہاکس بے روڈ پر وائی جنکشن سے مچھلی چوک تک ساڑھے آٹھ کلومیٹر طویل سڑک اور مچھلی چوک سے بائیں جانب کاکا پیر روڈ کی تعمیر بھی منصوبے میں شامل ہے۔ ان دونوں منصوبوں پر مجموعی طور پر 4 ارب 16 کروڑ 20 لاکھ روپے لاگت کا تخمینہ لگایا گیا ہے اور ان پر بھی اگست میں کام شروع کیا جائے گا۔

اس کے علاوہ ملیر ہالٹ انڈر پاس پر بھی جلد تعمیراتی کام کا آغاز کیا جائے گا۔