پاکستان نے 2.2 ارب ڈالر کے بیرونی قرضے ادا کردیئے،گورنر اسٹیٹ بینک
چین کے 1.4 ارب ڈالر قرض کی واپسی، چند ہفتوں میں دوبارہ فنانسنگ متوقع
گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے کہا ہے کہ پاکستان نے رواں ماہ چین کے 1.4 ارب ڈالر قرض سمیت مجموعی طور پر 2.2 ارب ڈالر کے بیرونی قرضوں کی ادائیگی کی ہے۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں شرکت کے بعد پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے گورنر اسٹیٹ بینک نے کہا کہ رواں برس قرض ادائیگی کا دباؤ کم کرنے اور زرمبادلہ بڑھانے کی حکمت عملی جاری ہے۔
انہوں نے بتایا کہ بیرونی قرضوں کی ادائیگی کا حجم 26.5 ارب ڈالر سے کم ہو کر 21.5 ارب ڈالر رہ گیا ہے، جبکہ 3.5 ارب ڈالر صرف سود کی ادائیگی کی مد میں ادا کیے جائیں گے۔
جمیل احمد نے کہا کہ سعودی عرب اور چین کے 12 ارب ڈالر کے قرضوں کا رول اوور درکار ہوگا۔ پاکستان نے چین کو 1.4 ارب ڈالر کا کمرشل قرض واپس کر دیا ہے، تاہم چینی بینکوں کی جانب سے اس قرض کی دوبارہ فنانسنگ ابھی تک نہیں کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ یہ رقم چند ہفتوں کی تاخیر سے اسلام آباد کو دوبارہ فراہم کر دی جائے گی۔
گورنر اسٹیٹ بینک نے بتایا کہ گزشتہ تین برسوں کے دوران مرکزی بینک نے زرمبادلہ کے ذخائر بڑھانے کے لیے 28 ارب ڈالر خریدے۔
انہوں نے کہا کہ جولائی 2026 میں 2.2 ارب ڈالر کی بیرونی قرضوں کی ادائیگی کی گئی، جس میں چین کے 1.4 ارب ڈالر کے کمرشل قرض کی واپسی اور باقی 80 کروڑ ڈالر دیگر قرضوں کی ادائیگی شامل ہے۔