بحیرۂ احمر میں بحری دفاعی اتحاد بنانے کا سعودی منصوبہ، پاکستان، ترکی نے حمایت کردی
43 ممالک کے نمائندوں کی مشاورت، یمن کے حوثیوں کی طرف سے بحری ناکہ بندی کے بعد اقدام
سعودی عرب نے بحیرۂ احمر میں بین الاقوامی جہاز رانی اور توانائی کی ترسیل کے اہم راستوں کے تحفظ کے لیے ایک کثیرالملکی بحری دفاعی اتحاد قائم کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔
بی بی سی عربی کے مطابق یہ منصوبہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب یمن کے ایران نواز حوثی باغیوں کے حملوں کے باعث بحیرۂ احمر اور باب المندب کے علاقے میں عالمی تجارت اور بحری نقل و حمل کو متعدد بار خطرات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
سعودی وزارتِ دفاع نے بتایا کہ مجوزہ اتحاد پر غور کے لیے منعقدہ بین الاقوامی اجلاس میں 43 ممالک اور یورپی یونین کے نمائندوں نے شرکت کی۔ منصوبے کے مطابق سعودی عرب اس اتحاد کا بانی اور سربراہ ملک ہوگا، جبکہ اس کا مرکزی دفتر بھی سعودی عرب میں قائم کیا جائے گا۔
وزارتِ دفاع کے مطابق اتحاد کا مقصد بحری سلامتی کو مضبوط بنانا، جہاز رانی کی آزادی کا تحفظ کرنا، بین الاقوامی تجارتی راستوں اور توانائی کی ترسیل کی راہداریوں کو محفوظ بنانا اور باب المندب اور خلیجِ عدن میں مشترکہ بحری مفادات کا دفاع کرنا ہے۔
سعودی وزارتِ دفاع کا کہنا ہے کہ پاکستان، ترکی، مصر، سوڈان اور جبوتی سمیت 14 ممالک نے ایک مشترکہ اعلامیے کے ذریعے مجوزہ اتحاد کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔
تاہم خلیجی تعاون کونسل کے چھ رکن ممالک میں سے عمان اور متحدہ عرب امارات ان ممالک میں شامل نہیں تھے جنہوں نے اس مشترکہ بیان کی حمایت کی۔