انتظامی یونٹ ہوں یا نئےصوبے،ن لیگ اور پیپلز پارٹی ایسا کبھی نہیں ہونےدیں گے،گوہر
محسن نقوی عوام کو بتایا جائے سسٹم کو ڈیفالٹ موڈ پر کون لے کر گیا
فائل فوٹو
اسلام آباد: چیئرمین تحریک انصاف بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ انتظامی یونٹ ہوں یا نئے صوبے، ن لیگ اور پیپلز پارٹی یہ کبھی نہیں ہونے دیں گی۔
پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ آپ سوچ رہے ہیں کہ کسی طرح پی ٹی آئی کو کمزور کیا جائے، لیکن ملک میں سو صوبے بھی بنا دیں تو ہر طرف پی ٹی آئی ہی جیتے گی۔
انہوں نے کہا کہ بشریٰ بی بی کو اسپتال منتقل کیا گیا تھا، انہیں منگل کی شب آنکھ کے چیک اپ کے لیے اسپتال لایا گیا اور پھر اڈیالہ واپس لے گئے۔ مجھے بھی اسپتال منتقل کیے جانے کے بعد اطلاع دی گئی تھی۔ محسن نقوی اور بلاول بھٹو زرداری سے کسی قسم کا کوئی رابطہ نہیں ہوا۔ عوام کو بتایا جانا چاہیے کہ اس سسٹم کو ڈیفالٹ موڈ پر کون لے کر گیا۔
بیرسٹر گوہر نے کہا کہ جب سے ملک نئے پاکستان سے پرانے پاکستان کی طرف گیا تباہی شروع ہو گئی۔ عدلیہ تباہ ہوگئی، معاشی خرابی پیدا ہوئی اور عوام کا نظام پر اعتماد اٹھ گیا۔ ایسا سمجھا جائے کہ ملک میں ہر طرف آگ لگی رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ یونٹ اور صوبے یہ دونوں موجودہ حکمران جماعتیں نہیں کرنے دیں گی۔ سندھ اور پنجاب میں ان دو جماعتوں کا قبضہ ہے۔ ان حکمرانوں کے پاس کسی بھی آئینی ترمیم کرنے کا کوئی مینڈیٹ نہیں ہے، اتفاق رائے کے بغیر ترامیم کرنا درست نہیں ہے۔
چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے شہداء کے لیے کوئی آواز نہیں اٹھائی، یہ مفادات کی سوداگیری کرتی ہے۔ بلاول نے نشستوں پر آواز اٹھائی لیکن شہداء پر کوئی بات نہیں کی۔ میں بلاول سے اتفاق کرتا ہوں کہ وزیراعظم فارم 47 کی پیداوار ہیں، لیکن صرف وزیراعظم ہی نہیں پیپلز پارٹی بھی فارم 47 کی پیداوار ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہماری نشستیں کراچی میں بھی چھینی گئیں جو پیپلز پارٹی کو ملیں۔ میں پیپلز پارٹی کو بھی مناظرے کا چیلنج کرتا ہوں، آئیں بتاتا ہوں کہ آپ نے ہماری نشستوں پر قبضہ کیا۔
بیرسٹر گوہر نے کہا کہ آئینی ترامیم کے بعد 90 مزید ججز کو تعینات کیا گیا۔ پورے پاکستان میں 26ویں آئینی ترمیم سے قبل 98 ججز تھے۔ اتنے ججز تعینات کرنے کے باوجود آپ انصاف فراہم کرنے میں ناکام رہے، عدلیہ پر اعتماد اٹھ چکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ آپ اب انتظامی یونٹس کی طرف جا رہے ہیں اور نئے صوبوں کی طرف جا رہے ہیں، سوچ رہے ہیں کہ کسی طرح پی ٹی آئی کو کمزور کیا جائے، مگر عمران خان کی پورے ملک میں 90 فیصد سے زائد حمایت کی جاتی ہے۔ آپ ملک میں سو صوبے بھی بنا دیں، ملک میں ہر طرف پی ٹی آئی ہی جیتے گی۔