سانحہ پٹن،کشمیری تاریخ کا المناک باب،35 سال گزر گئے
واقع پٹن کے علاقے میں پیش آنے والے واقعے کے دوران بھارتی سکیورٹی فورسز کی فائرنگ میں متعدد شہری جاں بحق اور کئی زخمی ہوئے تھے۔
سرینگر: مقبوضہ جموں و کشمیر میں یکم اگست 1990 کے سانحہ پٹن کو 35 سال مکمل ہو گئے۔ اس موقع پر مختلف حلقوں کی جانب سے واقعے میں جان گنوانے والوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا اور اس دن کو کشمیری تاریخ کا ایک اہم باب قرار دیا گیا۔
تاریخی ریکارڈ کے مطابق یکم اگست 1990 کو بارہمولہ۔سرینگر شاہراہ پر واقع پٹن کے علاقے میں پیش آنے والے واقعے کے دوران بھارتی سکیورٹی فورسز کی فائرنگ میں متعدد شہری جاں بحق اور کئی زخمی ہوئے تھے۔
عینی شاہدین کے مطابق واقعے کے دوران فائرنگ اچانک شروع ہوئی، جس کے نتیجے میں متعدد افراد متاثر ہوئے، جبکہ کئی رہائشی املاک کو بھی نقصان پہنچنے کی اطلاعات سامنے آئیں۔
اس واقعے کے بعد مقبوضہ کشمیر کی صورتحال اور انسانی حقوق سے متعلق خدشات عالمی سطح پر بھی زیرِ بحث رہے۔ مختلف انسانی حقوق کی تنظیمیں گزشتہ برسوں کے دوران مقبوضہ کشمیر میں شہریوں کے تحفظ اور انسانی حقوق کی صورتحال پر متعدد بار تشویش کا اظہار کرتی رہی ہیں۔
سانحہ پٹن کو کشمیری عوام کی تاریخ کا ایک اہم واقعہ تصور کیا جاتا ہے، جبکہ ہر سال یکم اگست کو مختلف تقریبات اور دعائیہ اجتماعات میں متاثرین اور جاں بحق افراد کو یاد کیا جاتا ہے۔