سعودی عرب پر حوثیوں کے میزائل حملے ناکام، اہم آئل پائپ لائن بحال
سعودی اتحادی افواج نے کارروائی کی، عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں کم ہوگئیں، لیفٹیننٹ جنرل (ر) نعمان محمود سیکرٹری جنرل مقرر۔
سعودی عرب پر حوثیوں کے میزائل حملے ناکام ہونے اور ایسٹ ویسٹ آئل پائپ لائن کی بحالی کا منظر
سعودی اتحادی افواج نے سعودی عرب کے اہم شہروں پر حوثی ملیشیا کی جانب سے کیے جانے والے میزائل حملے ناکام بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔ سعودی اتحاد کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل ترکی المالکی کے مطابق حوثی ملیشیا کی جانب سے طائف اور ینبع کی سمت داغے گئے 6 بیلسٹک میزائل کامیابی سے تباہ کر دیے گئے۔
ترجمان نے بتایا کہ فضائی دفاعی نظام نے خطرے کا مؤثر انداز میں مقابلہ کیا اور دونوں شہروں میں شہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کی کوشش ناکام بنا دی گئی۔ اتحادی افواج حوثی ملیشیا کی جانب سے جاری جارحیت پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور ان سے سختی سے نمٹا جائے گا۔ اس سے قبل سعودی شہری دفاع نے مکہ مکرمہ، جدہ، ینبع، طائف اور تبوک کے لیے خطرے کا الرٹ جاری کیا تھا۔
خبر ایجنسی رائٹرز کے مطابق سعودی عرب نے حوثیوں کے حملوں کے باعث معطل کی جانے والی اہم ایسٹ ویسٹ آئل پائپ لائن کو کامیابی کے ساتھ دوبارہ فعال کر دیا ہے۔ اس اہم بحالی کے بعد بحیرۂ احمر کی بندرگاہ ینبع سے خام تیل کی برآمدات اور ترسیل کا عمل بھی دوبارہ بحال ہو گیا ہے۔ سعودی عرب اس اسٹریٹجک پائپ لائن کے ذریعے یومیہ تقریباً 4 million بیرل خام تیل بحیرۂ احمر پر واقع ینبع بندرگاہ منتقل کرتا ہے، جس کی بحالی سے عالمی منڈی میں تیل کی رسد کو بڑا استحکام ملا ہے۔
پائپ لائن کی بحالی اور خلیج سے تیل کی سپلائی میں بہتری کے امکانات کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں دو ہفتے کی کم ترین سطح پر آ گئی ہیں۔ برینٹ خام تیل کے نومبر کے معاہدے کی قیمت 2.01 ڈالر یا 2 فیصد کمی کے بعد 98.33 ڈالر فی بیرل ہو گئی جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کی اکتوبر ڈیلیوری 2.50 ڈالر یا 2.61 فیصد گر کر 93.28 ڈالر فی بیرل پر آ گئی۔
دوسری جانب ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق لیفٹیننٹ جنرل (ر) نعمان محمود کو مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کا پہلا سیکرٹری جنرل مقرر کر دیا گیا ہے۔ وہ ریاض میں قائم کیے جانے والے اتحادی جنرل سیکرٹریٹ کی قیادت کریں گے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان مشترکہ دفاعی معاہدہ 17 September 2025 کو ہوا تھا، جس میں بعد میں ترکیہ نے بھی شمولیت اختیار کی۔ معاہدے کے مطابق کسی ایک ملک پر حملہ تینوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔
دریں اثنا، وزیر اعظم شہباز شریف نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ پاکستان سعودی عرب کی خودمختاری، سلامتی اور اسلام کے مقدس ترین مقامات کے تحفظ کے لیے مملکت کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑا ہے۔ انہوں نے سعودی عرب کے خلاف حوثیوں کے حالیہ حملوں بالخصوص مقدس شہر مکہ مکرمہ پر ڈرون حملے کی کوشش کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی۔