نیٹ میٹرنگ قواعد تبدیل ہونے سے پاکستان میں بیٹریوں کی درآمد 1600 فیصد بڑھ گئی،بلنگ پر نئی تجویز پیش

جنوری 2024 سے جون 2026 کے دوران پاکستان میں لیتھیم آئن بیٹریوں کی درآمد میں 1600 فیصد سے زائد اضافہ ہوا

August 1, 2026 · قومی

اسلام آباد: پاکستان میں نیٹ میٹرنگ کے نظام میں ممکنہ تبدیلیوں اور سولر توانائی کے بڑھتے رجحان کے باعث بیٹریوں کی درآمدات میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق جنوری 2024 سے جون 2026 کے دوران پاکستان میں لیتھیم آئن بیٹریوں کی درآمد میں 1600 فیصد سے زائد اضافہ ہوا، جبکہ بیٹری انرجی اسٹوریج سسٹم (BESS) کی مارکیٹ تیزی سے ترقی کر رہی ہے۔

پاور ڈویژن کے مشیر سید فیضان علی نے بجلی کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے ٹائم آف یوز (TOU) نیٹ میٹرنگ یا نیٹ بلنگ متعارف کرانے کی تجویز پیش کی ہے۔

تجویز کے مطابق شام 5 بجے سے رات 10 بجے تک بجلی کے استعمال کے اوقات میں بیٹری سے بجلی فراہم کرنے کی حوصلہ افزائی کی جائے تاکہ زیادہ طلب کے اوقات میں گرڈ پر دباؤ کم کیا جا سکے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان نے گزشتہ 30 ماہ کے دوران 6 گیگا واٹ گھنٹہ سے زائد لیتھیم آئن بیٹریاں درآمد کیں، جن کی مالیت تقریباً 126 ارب روپے بنتی ہے۔

مشیر کے مطابق پاکستان میں شام کے اوقات میں بجلی کی طلب 26 ہزار میگاواٹ سے تجاوز کر چکی ہے، اس لیے بیٹری اسٹوریج سسٹم کو توانائی کے شعبے کا اہم حصہ بنانے کی ضرورت ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سولر صارفین کی بڑھتی تعداد کے باعث بجلی ذخیرہ کرنے والے نظام کی طلب میں اضافہ ہو رہا ہے، جبکہ مستقبل میں بیٹریاں گرڈ مینجمنٹ، لوڈ مینجمنٹ اور بجلی کی طلب کو متوازن رکھنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔

سید فیضان علی نے بیٹری اسٹوریج کے لیے واضح قواعد، حفاظتی معیار، قومی بیٹری رجسٹری اور جدید بلنگ نظام متعارف کرانے کی ضرورت پر زور دیا ہے تاکہ صارفین اور بجلی کے نظام دونوں کو فائدہ پہنچ سکے۔