حافظ نعیم الرحمن نے 14نکاتی اصلاحاتی ایجنڈا پر قومی ڈائیلاگ کی تجویز دے دی

سیاسی قیدی رہا کیے جائیں، عوامی رائے کا احترام ضروری ہے، امیر جماعت اسلامی پاکستان کا ویڈیو پیغام

August 2, 2026 · قومی

امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ جب نظام کو بنانے اور چلانے والوں نے ناکامی کا اعتراف کرلیا ہے تو دل بڑا کریں اور نیشنل ڈائیلاگ (National Dialogue ) کا آغاز کریں، عمران خان سمیت تمام سیاسی قیدیوں کو رہا کریں ۔
اپنے ویڈیو پیغام میں امیر جماعت اسلامی نے شفاف انتخابات، آزاد عدلیہ ، متناسب نمائندگی کی بنیاد پر انتخابات، بااختیار بلدیاتی حکومتوں اور خاندانی و شخصی اجارہ داری ختم کرکے سیاسی جماعتوں میں جمہوریت پر مشتمل 14 نکاتی اصلاحاتی ایجنڈا بھی پیش کردیا۔
حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ قومی ڈائیلاگ کا پہلا نقطہ یہ ہونا چاہیے کہ آئندہ عوام کی رائے پر کوئی ڈاکا نہیں پڑے گا ، عوام جس کو ووٹ دیں گے یا جسے مسترد کریں اس کا احترام کیا جائے گا۔ عدلیہ کو آزاد کیا جائے اور ججز کی تعیناتی حکمرانوں کی پسند ناپسند کی بجائے میرٹ پر کی جائے، انتخابات متناسب نمائندگی کی بنیاد پر ہونے چاہییں، عوام شخصیات ، جاگیرداروں ، وڈیروں کی بجائے پارٹی منشور کو ووٹ دیں تو ہی جمہوریت مضبوط ہوگی۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ قومی مذاکرات کے ایجنڈے میں خاندانوں کی سیاست کا خاتمہ ، سیاسی پارٹیوں کے اندر جمہوریت ، بااختیار مقامی حکومتوں کے قیام کو بھی شامل ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی ملک میں انتظامی یونٹس کی تقسیم کوئی بڑا مسئلہ نہیں ہے ، یہ معاملات اتفاق رائے سے طے کیے جاسکتے ہیں تاہم اگر آئین میں پہلے سے موجود اصول و قوانین پر عمل نہیں ہورہا تو کسی بھی نئی بحث سے مزید افراتفری پھیلے گی ، اس لیے ضروری ہے آئین پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔
حافظ نعیم الرحمن کے مجوزہ 14نکاتی قومی مذاکرات میں بلوچستان ، خیبر پختونخواہ اور آزاد کشمیر کے مسائل کے حل کے لیے قومی جرگہ کی تشکیل کی تجویز دی گئی ہے۔ انہوں نے معدنیات سے متعلق قومی پالیسی کی تشکیل ، پاک ایران گیس پائپ لائن کی تکمیل ، بجلی ، گیس اور پٹرول کی قیمتوں میں کمی اور ملک کے تمام شہریوں کے لیے یکساں نظام کو بھی قومی ڈائیلاگ کے ایجنڈے میں شامل کرنے کی تجاویز دی ہیں۔ امیر جماعت اسلامی نے مصنوعی ذہانت اور زراعت کے شعبوں میں بہتری لانے کی تجاویز دیں اور کہا کہ انگریزوں کی دی گئی جاگیریں کسانوں میں تقسیم ہونی چاہییں اور لینڈ ریفارمز (Land Reforms) کو قومی ڈائیلاگ ایجنڈے میں شامل ہونا چاہیے۔ انہوں نے کھیلوں کے شعبہ میں سیاسی تقرریوں کی مخالفت کی اور مقابلے کے امتحانات قومی زبان میں لینے کی تجاویز دیتے ہوئے ان دونوں امور کو قومی ڈائیلاگ میں شامل کرنے کی بات کی۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ مذاکرات کا سب سے اہم نقطہ یہ ہونا چاہیے کہ ہر ادارہ اپنی حدود میں رہ کر کام کرے گا۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ اگر ان کی پیش کردہ تجاویز پر سنجیدہ اور بامعنی مذاکرات کا آغاز ہوگیا تو ملک کے آگے بڑھنے کے امکانات روشن ہیں۔