میر رضا علی قتل کیس، نئی فوٹیج نے تفتیش کا رخ بدل دیا
29 جولائی کی رات کی سی سی ٹی وی فوٹیج میں ایک موٹرسائیکل ویران مقام پر کچھ دیر کے لیے رکی اور پھر وہاں سے روانہ ہوگئی
آئی بی اے کے گریجویٹ اور نوجوان کاروباری شخصیت میر رضا علی خان کی پراسرار موت کے مقدمے میں تفتیشی اداروں کو نئے شواہد ملے ہیں، جن میں جائے وقوعہ کے قریب نصب سی سی ٹی وی فوٹیج بھی شامل ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ تمام پہلوؤں کو مدنظر رکھتے ہوئے تحقیقات جاری ہیں اور حتمی نتیجہ مکمل شواہد سامنے آنے کے بعد ہی اخذ کیا جائے گا۔
تحقیقاتی ذرائع کے مطابق 29 جولائی کی رات کی سی سی ٹی وی فوٹیج میں ایک موٹرسائیکل ویران مقام پر کچھ دیر کے لیے رکی اور پھر وہاں سے روانہ ہوگئی۔ تفتیشی ٹیم اس فوٹیج کا فرانزک اور تکنیکی جائزہ لے رہی ہے تاکہ واقعے کی حقیقت تک پہنچا جا سکے۔
پولیس کو جائے وقوعہ سے لاش ملنے کے بعد کی ابتدائی ویڈیو بھی موصول ہوئی ہے۔ پولیس سرجن کی ابتدائی رپورٹ کے مطابق لاش کو جلانے کے شواہد نہیں ملے، جبکہ جسم پر موجود آثار گرمی اور وقت گزرنے کے باعث پیدا ہونے والی طبعی تبدیلیوں کا نتیجہ قرار دیے گئے ہیں۔
تفتیش کے دوران جائے وقوعہ کے قریب سے پستول کا ہولسٹر بھی برآمد ہوا ہے۔ ذرائع کے مطابق پوسٹ مارٹم کے بعض نکات کی روشنی میں مختلف امکانات کا جائزہ لیا جا رہا ہے، تاہم پولیس نے کسی حتمی نتیجے پر پہنچنے سے گریز کیا ہے۔
پولیس کے مطابق سی سی ٹی وی فوٹیج میں میر رضا علی کو گھر سے نکلتے وقت اکیلے دیکھا گیا، تاہم تحقیقات کو کسی ایک زاویے تک محدود نہیں رکھا جا رہا اور تمام ممکنہ پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے۔
تفتیشی حکام نے مقتول کا موبائل فون بھی برآمد کر لیا ہے۔ ابتدائی تحقیقات میں ڈکیتی یا موبائل چھیننے کے شواہد سامنے نہیں آئے، جبکہ مالی معاملات، ڈیجیٹل کرنسی میں سرمایہ کاری، بینک ٹرانزیکشنز اور دیگر سرگرمیوں کا بھی ریکارڈ کھنگالا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق مقتول نے گھر سے روانگی سے قبل کچھ مالی لین دین کیا تھا، جبکہ ان کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس بھی حذف کیے گئے تھے۔ پولیس نے فون ریکارڈ اور رابطوں کی تفصیلات حاصل کرنے کے لیے متعلقہ اداروں سے بھی معلومات طلب کر لی ہیں۔
یاد رہے کہ 25 سالہ میر رضا علی خان 28 جولائی کی شب گھر سے چند منٹ میں واپس آنے کا کہہ کر نکلے تھے، تاہم اگلے روز ان کی لاش گلستانِ جوہر کے ایک علاقے سے برآمد ہوئی تھی۔
پولیس کا کہنا ہے کہ کیس کی تفتیش فرانزک رپورٹس، سی سی ٹی وی فوٹیج، ڈیجیٹل شواہد اور دیگر دستیاب معلومات کی بنیاد پر جاری ہے، جبکہ واقعے سے متعلق کسی بھی حتمی مؤقف کا تعین مکمل تحقیقات کے بعد کیا جائے گا۔