بھارت میں بجلی کا شارٹ فال تین سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا
مجموعی بجلی پیداوار میں کوئلے کا حصہ بھی اگست کے 64.6 فیصد سے بڑھ کر 66.03 فیصد ہوگیا۔
بھارت میں بجلی کا شارٹ فال تین سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا
بھارت میں بجلی کی قلت ستمبر کے دوران تین سال سے زائد عرصے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جبکہ بجلی کی بڑھتی ہوئی طلب پوری کرنے کے لیے کوئلے سے چلنے والے بجلی گھروں کی پیداوار میں مسلسل چھٹے ماہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق گرڈ انڈیا کے روزانہ اعداد و شمار کی بنیاد پر کیے گئے تجزیے سے معلوم ہوا ہے کہ ستمبر میں بھارت کو تقریباً 56 کروڑ کلوواٹ گھنٹے بجلی کی کمی کا سامنا رہا۔ یہ اگست 2023 کے بعد ملک میں بجلی کے شارٹ فال کی بلند ترین سطح ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق کم بارش کے باعث پن بجلی کی پیداوار متاثر ہوئی، جبکہ دن کے وقت پیدا ہونے والی قابلِ تجدید توانائی کو محفوظ کرنے کے لیے بیٹری اسٹوریج کی محدود سہولت بھی بجلی کے نظام پر دباؤ بڑھانے کی ایک وجہ بنی۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ستمبر میں کوئلے سے بجلی کی پیداوار گزشتہ سال کے اسی مہینے کے مقابلے میں 13.3 فیصد زیادہ رہی۔ مجموعی بجلی پیداوار میں کوئلے کا حصہ بھی اگست کے 64.6 فیصد سے بڑھ کر 66.03 فیصد ہوگیا۔
دوسری جانب قابلِ تجدید ذرائع سے بجلی کی پیداوار میں بھی 25.1 فیصد اضافہ ہوا اور یہ ستمبر میں 29.62 ارب کلوواٹ گھنٹے تک پہنچ گئی۔ تاہم مجموعی بجلی پیداوار میں صاف توانائی کا حصہ اگست کے 19.5 فیصد سے کم ہوکر تقریباً 17 فیصد رہ گیا۔
ایک الگ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق بھارت کے تقریباً ہر پانچ میں سے دو کوئلے سے چلنے والے بجلی گھروں میں ایندھن کے ذخائر تشویشناک حد تک کم ہیں۔
ایلارا سیکیورٹیز کے ریسرچ اینالسٹ روپیش سانکھے کے مطابق ستمبر میں صنعتی سرگرمیوں میں اضافے کے باعث بجلی کی طلب بڑھی، جبکہ متعدد پاور پلانٹس میں جاری مرمتی کام بھی بجلی کی قلت کی وجوہات میں شامل رہا۔
گرڈ انڈیا کے اعداد و شمار کے مطابق ستمبر میں بھارت کی مجموعی بجلی پیداوار سالانہ بنیاد پر 11.3 فیصد اضافے کے ساتھ 174.17 ارب کلوواٹ گھنٹے رہی۔ تاہم پیداوار میں اضافے کے باوجود بجلی کی طلب اور رسد کے درمیان فرق برقرار رہا۔