تلہ گنگ: 17 سالہ لڑکی کے اندھے قتل کا معمہ حل، بہنوئی قاتل نکلا
نکاح میں ناکامی پر سالی کو پتھر مار کر اور گلا گھونٹ کر مار ڈالا اور لاش گھاس میں پھینک دی
تلہ گنگ / چکوال: تھانہ تمان کی حدود گاؤں موگلہ کی ڈھوک ڈالی میں 17 سالہ لڑکی کے اندھے قتل کا ڈراپ سین ہو گیا ہے۔ چکوال پولیس نے جدید سائنسی خطوط پر تفتیش کرتے ہوئے محض 4 دنوں میں سنسنی خیز انداز میں معمہ حل کر کے مقتولہ کے بہنوئی کو گرفتار کر لیا۔
پولیس زرائع اور ڈی پی او کاشف ذوالفقار کے مطابق، مقتولہ کی والدہ کی وفات اور والد کی دوسری شادی کے بعد وہ گزشتہ سات آٹھ سال سے موگلہ کی ڈھوک ڈالی میں اپنی سوتیلی ماں کے بھائی (جسے وہ ماموں ظاہر کرتی تھی) کے ہاں رہائش پذیر تھی۔ لڑکی 24 اور 25 جولائی کی درمیانی شب پراسرار طور پر لاپتہ ہوئی، جس کے بعد 31 جولائی کو اس کی مسخ شدہ لاش موگلہ کے قریب ایک دربار کے پاس گھاس سے ڈھکی ہوئی ملی۔
تفتیش کے دوران معلوم ہوا کہ اٹک کے رہائشی ملزم (جو مقتولہ کی بڑی بہن کا شوہر اور 2 بچوں کا باپ ہے) نے اپنی سالی کے ساتھ ناجائز تعلقات استوار کر رکھے تھے اور اس سے شادی کرنا چاہتا تھا۔ ملزم لڑکی کو لے کر پنڈی گھیب پہنچا تاہم مقامی مولوی نے پہلی بیوی کی موجودگی میں اسلامی قانون اور لڑکی کے کم عمر ہونے کے باعث نکاح پڑھانے سے انکار کر دیا۔
ڈی ایس پی تلہ گنگ عبدالعزیز کے مطابق 30 جولائی کی رات ملزم لڑکی کو واپس لے کر موگلہ پہنچا تو لڑکی نے گھر اندر جانے سے انکار کر دیا۔ ملزم نے زبردستی کوشش کی اور ناکامی پر مشتعل ہو کر لڑکی کے سر پر پتھر مارے اور گلا گھونٹ کر اسے قتل کر دیا۔ اس کے بعد لاش کو دربار کے پاس پھینک کر گھاس سے چھپا دیا۔
ملزم پولیس کو گمراہ کرنے کے لیے انتہائی چالاکی کا مظاہرہ کرتا رہا اور تفتیشی ٹیم کی مدارات بھی کرتا رہا۔ اس نے ابتدا میں پولیس کو بتایا کہ لڑکی کے پاس موبائل فون نہیں تھا، لیکن پولیس نے جب مقتولہ کی بہن سے تفتیش کی تو اس نے فون کی موجودگی کی تصدیق کر دی۔ پولیس نے کال ڈیٹا اور تکنیکی ذرائع کو استعمال کرتے ہوئے قاتل کو بے نقاب کر کے شواہد سمیت گرفتار کر لیا۔