افغان سرزمین سے ڈرون دراندازی پر سخت ردعمل، پاکستان کے افغانستان میں 10 فوجی اہداف پر حملے
خودمختاری کی خلاف ورزی، فضائی دفاعی نظام نے درانداز ڈرونز ناکارہ بنا دیے، مزید اشتعال انگیزی کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔
افغان سرزمین سے ڈرون دراندازی کے بعد پاکستان کی جانب سے کیے جانے والے جوابی اقدامات اور سکیورٹی امور کا احاطہ۔
اسلام آباد میں جاری ہونے والے سرکاری بیانات کے مطابق پاکستان نے 23 ستمبر کو افغان سرزمین سے ہونے والی ڈرونز کی دراندازی کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے اور اسے ملکی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق پاکستان کے فضائی دفاعی نظام نے تمام درانداز ڈرونز کو ان کے اہداف تک پہنچنے سے پہلے ہی کامیابی کے ساتھ ناکارہ بنا دیا۔
حکام کا کہنا ہے کہ دفاع وطن کے بنیادی حق کو استعمال کرتے ہوئے پاکستان نے افغانستان کے اندر ڈرونز کے لانچنگ اور ذخیرہ کرنے کے لیے استعمال ہونے والے 10 مخصوص مقامات پر فضائی اور ڈرون حملے کیے۔ کے تحت جاری ہونے والے موقف میں واضح کیا گیا ہے کہ افغان سرزمین سے پاکستان پر حملے کسی صورت برداشت نہیں کیے جائیں گے۔
وفاقی وزیرِ اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ افغانستان میں کی جانے والی یہ کارروائیاں درست، محدود اور براہِ راست ان فوجی اہداف تک مرکوز تھیں جو پاکستان کے خلاف ہونے والی ڈرون کارروائیوں سے منسلک تھے۔ انہوں نے افغان طالبان حکومت پر زور دیا کہ وہ فوری طور پر پاکستان کے خلاف تمام دشمنانہ سرگرمیاں بند کرے اور اپنی بین الاقوامی ذمہ داریاں پوری کرتے ہوئے افغان سرزمین پر موجود دہشت گرد عناصر کے خلاف مؤثر اور قابلِ تصدیق کارروائی عمل میں لائے۔
پاکستان نے عزم ظاہر کیا ہے کہ وہ خطے میں امن، مذاکرات اور تعمیری روابط کے لیے پرعزم ہے تاہم امن کی اس خواہش کو کمزوری نہیں سمجھا جانا چاہیے۔ حکومت نے دوٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ اپنی سرزمین، عوام اور قومی سلامتی کے دفاع کے لیے تمام ضروری اقدامات اٹھائے جائیں گے اور کسی بھی قسم کی مزید اشتعال انگیزی کا بھرپور اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔