بانی پی ٹی آئی کی قیدِتنہائی درخواست پر اڈیالہ جیل رپورٹ میں الزامات مسترد

اسلام آباد ہائی کورٹ میں سماعت، جیل انتظامیہ نے سہولیات کی تفصیلات پیش کر دیں

August 6, 2026 · امت خاص, قومی

فائل فوٹو

سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل نے 190 ملین پاؤنڈ کیس میں سزا یافتہ  تحریک انصاف کے بانی عمران خان کو قیدِ تنہائی میں رکھنے کے الزامات کی تردید کردی۔

اسلام آباد ہائی کورٹ میں جمع کرائی گئی رپورٹ میں کہا کہ بانی پی ٹی آئی صبح لاک اَپ کھلنے کے بعد سے شام تک آزادانہ نقل و حرکت کر سکتے ہیں، اڈیالہ جیل میں بانی پی ٹی آئی یا کسی بھی قیدی کو تنہائی میں نہیں رکھا گیا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کو جیل قواعد کے مطابق ہر منگل کو اپنی اہلیہ بشریٰ عمران سے ملاقات کی بھی اجازت ہے۔

بانی پی ٹی آئی کی جیل میں قید تنہائی کے خلاف درخواست کی سماعت کل اسلام آباد ہائی کورٹ میں جسٹس خادم حسین سومرو کریں گے۔

سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کی رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ سابق وزیر اعظم اور سیاسی جماعت کے سربراہ کی حیثیت سے بانی پی ٹی آئی کی سکیورٹی کے خصوصی انتظامات کیے ہیں، عام قیدیوں کو بانی پی ٹی آئی کے رہائشی حصے تک رسائی نہیں دی جاتی، وہ 7 سیل پر مشتمل کمپاؤنڈ میں دن بھر آزادانہ چل پھر سکتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق جیل کے ڈاکٹر ہر روز تین بار ان کا معائنہ کرتے ہیں اور ان کے کھانے کی جانچ کرتے ہیں، ڈاکٹرز بانی پی ٹی آئی کا بلڈ پریشر، دل کی دھڑکن اور آکسیجن سیچوریشن سمیت دیگر طبی علامات چیک کرتے ہیں اور انہیں آگاہ بھی کرتے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایک کل وقتی سزا یافتہ قیدی، بانی کے منتخب کردہ مینو کے مطابق روزانہ تین وقت کا کھانا تیار کرتا ہے، بانی پی ٹی آئی کو قدرتی روشنی، تازہ ہوا اور طلوعِ آفتاب سے غروبِ آفتاب تک ورزش کی سہولت حاصل ہے۔

سپرنٹنڈنٹ کی رپورٹ میں درخواست کی گئی ہے کہ درخواست گزار علیمہ خانم کے الزامات بے بنیاد ہیں لہٰذا درخواست مسترد کی جائے۔

بانی پی ‌ٹی آئی عمران خان کی قید تنہائی سے متعلق درخواست پر عدالت میں اہم پیش رفت، فریقین عدالت میں پیش ہوئے، عدالت نے کارروائی موخر کر دی۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ میں سابق وزیراعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی مبینہ قید تنہائی کے خلاف دائر درخواستوں پر سماعت ہوئی، جسے عدالت نے ڈویژن بینچ کی کارروائی کے بعد تک مؤخر کر دیا۔

فریقین عدالت میں پیش

کیس کی سماعت جسٹس خادم حسین سومرو نے کی، دوران سماعت اڈیالہ جیل کے سپرنٹنڈنٹ، ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نوید حیات ملک اور درخواست گزاروں کے وکیل بیرسٹر سلمان صفدر عدالت میں پیش ہوئے۔

ایڈووکیٹ جنرل کے دلائل

ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے عدالت کو بتایا کہ گزشتہ سماعت پر تفصیلی دلائل دیے جا چکے ہیں اور حکومت کی جانب سے درخواستوں کے قابلِ سماعت ہونے پر اعتراض بھی اٹھایا گیا تھا۔

اس پر جسٹس خادم حسین سومرو نے ریمارکس دیے کہ ڈویژن بینچ کی کارروائی کے بعد عدالت اس کیس کو سنے گی۔

سلمان صفدر اور عدالت کے ریمارکس

بیرسٹر سلمان صفدر نے کہا کہ صبح سے عمران خان کے نام سے متعلق چار مقدمات عدالت میں لگ چکے ہیں اور ان کے کیسز کی نوعیت مختلف ہے، جس پر جسٹس خادم حسین سومرو نے ریمارکس دیے کہ ان کے پیچھے اتنے لوگ بھی تو نہیں کھڑے ہوتے جتنے آپ کے پیچھے کھڑے ہیں۔

سماعت میں وقفہ

ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے استدعا کی کہ عدالت کیس کی سماعت عدالتی تعطیلات کے بعد تک ملتوی کر دے۔جسٹس خادم حسین سومرو نے کہا کہ اگر کیس میں فوری نوعیت پائی گئی تو جلد تاریخ مقرر کی جائے گی، بصورت دیگر تعطیلات کے بعد سماعت ہوگی۔

بعد ازاں عدالت نے کیس کی سماعت ڈویژن بینچ کی کارروائی کے بعد تک ملتوی کر دی۔جسٹس خادم سومرو نے استفسار کیا کہ عمران خان کو بی کلاس قیدی کی سہولیات دی گئی ہیں؟ جس پر ایڈووکیٹ جنرل نے جواب دیا کہ عمران خان کو بی کلاس سے بھی بہتر سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں، سپریٹنڈنٹ اڈیالہ جیل نے عدالت کو بتایا کہ دو انگریزی اخبارات مہیا کیے جا رہے ہیں، ہفتہ پہلے بھی ان کو 9 نئی کتابیں دی گئی ہیں، یہ قیدِ تنہائی نہیں، عمران خان کو سات سیلز پر مشتمل کمپاؤنڈ میں آزادانہ چلنے پھرنے کی سہولت بھی میسر ہے