میر رضا علی کیس میں میڈیکل بورڈ تبدیل، والدین نے نیا بورڈ مسترد کر دیا
قبر کشائی کی اجازت سے انکار، کس طاقت ور شخص کو بچایا جا رہا ہے، والد کا سوال، انتظامیہ نے کھدائی کی تیاریاں مکمل کر لیں
کراچی کے نوجوان تاجر میر رضا علی کی قبر کشائی اور دوبارہ پوسٹ مارٹم سے قبل تشکیل دیے گئے میڈیکل بورڈ میں بڑی تبدیلی کر دی گئی، جبکہ مقتول کے والدین نے نئے بورڈ کو مسترد کرتے ہوئے اس کے ذریعے قبر کشائی کی اجازت دینے سے انکار کر دیا ہے۔ دوسری جانب انتظامیہ نے عدالتی حکم پر قبر کشائی کے لیے تمام انتظامات مکمل کر لیے ہیں۔
سرکاری نوٹیفکیشن کے مطابق پہلے سے قائم 8 رکنی میڈیکل بورڈ کی جگہ 5 رکنی بورڈ تشکیل دیا گیا ہے۔ نئے بورڈ میں ڈاکٹر سمعیہ سید کو کنوینر برقرار رکھا گیا ہے، جبکہ دیگر تمام اراکین تبدیل کر دیے گئے ہیں۔ نئے بورڈ میں پروفیسر ڈاکٹر ذکی الدین، ڈاکٹر قاضی اکبر، ڈاکٹر عابد حسین چانگ اور ڈاکٹر وسیم شامل ہیں۔
میر رضا علی کے والدین نے میڈیکل بورڈ میں کی گئی تبدیلیوں کو مسترد کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ بغیر کسی وضاحت کے بورڈ کی تشکیل تبدیل کی گئی، جس کے باعث انہیں نئے بورڈ پر اعتماد نہیں رہا۔
اہلخانہ کی جانب سے عدالت میں پیروی کرنے والے وکیل جبران ناصر نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ متعلقہ حکام کو نئے بورڈ پر عدم اعتماد سے باضابطہ طور پر آگاہ کیا جائے گا، جبکہ نئے نوٹیفکیشن کو بھی عدالت میں چیلنج کیا جائے گا۔
والدین کا کہنا ہے کہ وہ نئے میڈیکل بورڈ کو قبر کشائی اور دوبارہ پوسٹ مارٹم کی اجازت نہیں دیں گے، کیونکہ ان کے بقول اس سے کیس میں موجود شواہد متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
قبرستان میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے میر رضا کے والد نے سوال اٹھایا کہ کس طاقت ور شخص کو بچایا جا رہا ہے۔
کس طاقتور شخص کو بچا رہے ہو، میر رضا علی کے والد نے میڈیکل بورڈ تبدیل ہونے کے بعد قبر کشائی کی اجازت دینے سے انکار کردیا۔
قبر کشائی کیلئے انتظامات مکمل کر لیے گئے تھے۔ #mirrezaali pic.twitter.com/6BLToHssln
— Daily Ummat (@ummatdigitalpk) August 7, 2026
ادھر عدالتی حکم کے تحت قبر کشائی کی تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں۔ قبر کے گرد قناتیں نصب کر دی گئی ہیں، جبکہ کھدائی شروع کرنے کے لیے ضروری انتظامات بھی مکمل کر لیے گئے ہیں۔ تاہم اہلخانہ کی جانب سے نئے میڈیکل بورڈ پر اعتراض کے بعد صورتحال میں مزید قانونی پیش رفت کا امکان ہے۔