نئے سروے میں ٹرمپ کو بڑا دھچکا،منظوری کی شرح 30 فیصد سے نیچے

68 فیصد رجسٹرڈ ووٹرز نے ٹرمپ کی مجموعی صدارتی کارکردگی سے عدم اطمینان ظاہر کیا، جبکہ 29 فیصد افراد نے ان کی کارکردگی کی منظوری دی۔

September 22, 2026 · بام دنیا
نئے سروے میں ٹرمپ کو بڑا دھچکا،منظوری کی شرح 30 فیصد سے نیچے

نئے سروے میں ٹرمپ کو بڑا دھچکا،منظوری کی شرح 30 فیصد سے نیچے

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی صدارتی کارکردگی کے حوالے سے ایک تازہ سروے میں عوامی منظوری کی شرح کم ہو کر تقریباً 30 فیصد تک پہنچ گئی ہے، جبکہ معیشت سے متعلق حکومتی پالیسیوں پر بھی امریکی ووٹرز کی بڑی تعداد نے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

امریکن ریسرچ گروپ کے تازہ سروے کے مطابق 68 فیصد رجسٹرڈ ووٹرز نے ٹرمپ کی مجموعی صدارتی کارکردگی سے عدم اطمینان ظاہر کیا، جبکہ 29 فیصد افراد نے ان کی کارکردگی کی منظوری دی۔

سروے کے اعداد و شمار کے مطابق ٹرمپ کی موجودہ اور سابقہ صدارتی مدت کے دوران اس ادارے کے سروے میں پہلی مرتبہ ان کی منظوری کی شرح 30 فیصد سے نیچے ریکارڈ ہوئی ہے۔

معیشت سے متعلق سوالات میں بھی ٹرمپ انتظامیہ کو عوامی حمایت حاصل نہ ہوسکی۔ سروے میں صرف 26 فیصد افراد نے صدر کی اقتصادی کارکردگی کو منظور کیا، جبکہ متعدد شرکا نے امریکی معیشت کی موجودہ سمت پر تشویش کا اظہار کیا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مہنگائی اور روزمرہ استعمال کی اشیا کی بڑھتی قیمتیں عوامی رائے پر اثرانداز ہورہی ہیں۔ ایران کے ساتھ جاری جنگ کے دوران ایندھن کی قیمتوں میں اضافے نے بھی امریکی شہریوں میں معاشی دباؤ کے احساس کو مزید بڑھایا ہے۔

دوسری جانب وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ انتظامیہ کی معاشی پالیسیوں کا دفاع کرتے ہوئے سروے میں سامنے آنے والی منفی رائے کو مسترد کیا ہے۔ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ امریکی معیشت مضبوط بنیادوں پر قائم ہے۔

واضح رہے کہ مختلف اداروں کے سروے میں ٹرمپ کی عوامی منظوری کے اعداد و شمار میں فرق پایا جاتا ہے۔ 21 ستمبر کو جاری ہونے والے رائٹرز اور اِپسوس کے مشترکہ سروے میں ٹرمپ کی مجموعی منظوری کی شرح 32 فیصد ریکارڈ کی گئی تھی۔