لاہور ہائیکورٹ کا اہم فیصلہ،بینک صارفین کا خفیہ ڈیٹا بھی قانوناً جائیداد قرار

غیر قانونی استعمال نہایت سنگین نوعیت کا جرم ہے،تحریری فیصلہ جاری

August 7, 2026 · اہم خبریں

فائل فوٹو

 

لاہور ہائیکورٹ نے بینک صارفین کے خفیہ ڈیٹا کے غیر قانونی استعمال، جعلی سمز کے اجرا اور بینک اکاؤنٹس سے کروڑوں روپے منتقل کرنے کے مقدمے میں اہم قانونی فیصلہ جاری کیا ہے۔ عدالت نے قرار دیا کہ بینک صارفین کا خفیہ ڈیٹا بھی قانون کی نظر میں جائیداد ہے اور اگر کوئی بینک ملازم اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے اس ڈیٹا کو افشا کرے یا اس سے ناجائز فائدہ اٹھائے تو اس پر فوجداری بددیانتی کی دفعات بھی لاگو ہو سکتی ہیں۔

جسٹس طارق سلیم شیخ نے دو ملزمان کی بعد از گرفتاری ضمانت کی درخواستوں پر 19 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا۔ عدالت نے بینک ملازم محمد عاطف کی درخواست ضمانت مسترد کر دی۔ سم فرنچائز کے مالک محمد عثمان کی ضمانت دس لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض منظور کر لی۔

فیصلے میں کہا گیا کہ جدید بینکاری کے نظام میں کسٹمر ڈیٹا تک رسائی دراصل صارفین کے مالی مفادات تک رسائی کے مترادف ہے، اس لیے ایسے ڈیٹا کا غیر قانونی استعمال نہایت سنگین نوعیت کا جرم ہے۔ عدالت نے مزید قرار دیا کہ سائبر بینک فراڈ جیسے مقدمات میں ہر ملزم کے کردار کا تعین الگ الگ شواہد کی بنیاد پر کرنا ضروری ہے۔

ملزمان کے خلاف پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کی درخواست پر نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے مقدمہ درج کیا تھا۔

استغاثہ کے مطابق بینک صارفین کا خفیہ ڈیٹا لیک کر کے جعلی سمز جاری کی گئیں اور انہی سمز کے ذریعے چھ شہریوں کے بینک اکاؤنٹس سے ایک کروڑ چار لاکھ روپے منتقل کیے گئے۔

سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا کہ یہ ایک منظم سائبر بینک فراڈ تھا جس میں ہر ملزم نے الگ کردار ادا کیا۔ بینک کا خفیہ کسٹمر ڈیٹا لیک کیا گیا، اس کی بنیاد پر جعلی سمز جاری ہوئیں اور بینک ملازم محمد عاطف نے خفیہ معلومات تک رسائی حاصل کر کے فراڈ میں اہم کردار ادا کیا۔ سرکاری وکیل نے مزید کہا کہ ملزمان پر پیکا کے علاوہ پاکستان پینل کوڈ کی متعلقہ دفعات بھی لاگو ہو سکتی ہیں۔

بینک ملازم محمد عاطف کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ صرف بینک ریکارڈ تک رسائی ہونا جرم ثابت کرنے کے لیے کافی نہیں۔ تاہم عدالت نے قرار دیا کہ محمد عاطف کے خلاف بادی النظر میں کافی شواہد موجود ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس نے خفیہ معلومات تک رسائی حاصل کر کے مبینہ فراڈ میں کردار ادا کیا، اس لیے اس کی ضمانت کی درخواست مسترد کی جاتی ہے۔

سم فرنچائز کے مالک محمد عثمان کی جانب سے وکلاء خادم حسین اور محمد ابرار انور نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ان کے موکل نے جعلی سمز جاری نہیں کیں، نہ کوئی مشتبہ ڈیوائس برآمد ہوئی اور نہ جرم سے حاصل ہونے والی رقم اس کے قبضے سے ملی۔ عدالت نے قرار دیا کہ محمد عثمان کے خلاف براہ راست شواہد کی مزید جانچ ضروری ہے، اس لیے اسے شک کا فائدہ دیتے ہوئے دس لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض بعد از گرفتاری ضمانت منظور کی جاتی ہے۔ مقدمے کی مزید تفتیش اور ٹرائل قانون کے مطابق جاری رہے گا۔