مبینہ غفلت سےمریض کی موت کاملبہ ڈالنے پرجناح اسپتال کی ڈاکٹر نے عہدہ چھوڑ دیا
28جولائی کےواقعے کےبعدانتظامیہ کی جانب سےتنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ذمہ داران کےخلاف کارروائی نہیں کی گئی،درخواست
فائل فوٹو
کراچی: جناح اسپتال کے ڈاکٹرز کی مبینہ غفلت کے باعث 65 سالہ مریض کی ہلاکت کے معاملے نے نیا رخ اختیار کرلیا۔
تفصیلات کے مطابق کراچی کے سب سے بڑے سرکاری اسپتال جناح میں ڈاکٹرز کی مبینہ غفلت سے 65 سالہ مریض کی ہلاکت ہوئی جس کے بعد شعبہ ایمرجنسی کی واحد سینیئر ڈاکٹر صنوبر سکندر نے اسسٹنٹ پروفیسر میڈیسن کے عہدے کے طور پر فرائض انجام دینے سے معذرت کرتے ہوئے ایگزیکٹو ڈائریکٹر جناح اسپتال کو اپنے عہدے سے ریلیف کے لیے درخواست جمع کرا دی۔
ڈاکٹر صنوبر سکندر کے مطابق 28 جولائی کی شب پیش آنے والے واقعے پر وضاحت طلب کیے جانے کے بعد انہیں اسپتال انتظامیہ کی جانب سے تنقید کا سامنا کرنا پڑا جبکہ واقعے پر مناسب کارروائی نہ ہونے کے باعث موجودہ حالات میں طبی، تدریسی اور انتظامی ذمہ داریاں نبھانا مشکل ہوگیا ہے۔
درخواست میں ڈاکٹر صنوبر سکندر نے مؤقف اختیار کیا کہ ایمرجنسی میں پیشہ ورانہ احترام کی کمی، غیر صحت مند ورکنگ ماحول، اندرونی سیاسی مداخلت اور جونیئر ڈاکٹرز کے غیر مناسب رویے کے باعث وہ شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہیں۔
ڈاکٹر صنوبر سکندر کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال میں خدمات جاری رکھنا انتہائی مشکل ہوچکا ہے، اسی لیے وہ اپنے عہدے سے ریلیف کی خواہشمند ہیں۔
ڈاکٹر صنوبر سکندر کے ریلیف کی درخواست پر ینگ ڈاکٹر ایسوسی ایشن (وائے ڈی اے) سندھ نے بھی ردعمل دیتے ہوئے اسپتال انتظامیہ سے معاملہ فوری حل کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ وائے ڈی اے سندھ کے چیئرمین ڈاکٹر محبوب نوناری کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر صنوبر سکندر جناح اسپتال کی ایمرجنسی میڈیسن کی واحد ایف سی پی ایس اسسٹنٹ پروفیسر ہیں، جبکہ وہ ایف سی پی ایس پروگرام کی فیکلٹی ممبر اور ٹرینی ڈاکٹرز کی سپروائزر بھی ہیں۔