کمرشل جہازوں پر حملے اور بحری راستوں میں رکاوٹ قابل مذمت ہے:دفتر خارجہ

اس ہفتے کی اہم پیشرفت 7 اگست کا مکہ معاہدہ تھا، جو خالصتاً دفاعی نوعیت کا ہے اور اس کا مقصد خطے کی سیکیورٹی صورتحال سے مشترکہ طور پر نمٹنا ہے۔

August 12, 2026 · اہم خبریں

اسلام آباد: دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ کمرشل جہازوں پر حملوں اور آزادانہ بحری راستوں میں رکاوٹ ڈالنا قابل مذمت ہے، سعودی قیادت میں بحری اتحاد کے معاہدے کو آپریشنل بنانے کیلئے تیار ہیں۔

ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار پریس بریفنگ میں کہا ہے کہ اس ہفتے کی اہم پیشرفت 7 اگست کا مکہ معاہدہ تھا، جو خالصتاً دفاعی نوعیت کا ہے اور اس کا مقصد خطے کی سیکیورٹی صورتحال سے مشترکہ طور پر نمٹنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد اور فریقین کو مذاکرات کی میز پر واپس لانے کے لیے براہِ راست اور بالواسطہ تمام چینلز استعمال کر رہا ہے۔ پاکستان امریکا اور ایران کے درمیان امن کے لیے ثالث کی حیثیت سے پرامید ہے۔

ترجمان نے بتایا کہ بحرین کے وزیر خارجہ نے پاکستان کے دورے کا ارادہ ظاہر کیا ہے، جس کا وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے خیرمقدم کیا ہے، جبکہ وزیر داخلہ محسن نقوی ایران کے دورے پر ہیں جس کا مقصد دونوں ممالک کے تعلقات مزید مضبوط بنانے پر بات چیت ہے۔

باب المندب میں تجارتی جہازوں پر حوثیوں کے حملے کی مذمت کرتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ واقعے میں 3 پاکستانی شہید ہوئے، جن کی میتیں پاکستان لانے کی کوششیں جاری ہیں۔ پاکستان سمندری تجارتی جہازوں کی آزادانہ نقل و حرکت پر یقین رکھتا ہے اور واقعے کی تفصیلات کے لیے سعودی حکام اور بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ یمنی حکومت سے رابطے میں ہے۔

طاہر حسین اندرابی نے کہا کہ بھارت آزاد کشمیر کی صورتحال سے سیاسی فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہا ہے۔ بھارت کو آزاد کشمیر پر تبصرے کے بجائے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر توجہ دینی چاہیے اور کشمیریوں کو حق خودارادیت دینا چاہیے۔

آئی ایم ایف پروگرام کے حوالے سے ترجمان نے کہا کہ پاکستان پروگرام میں ہے اور کامیابی سے 3 جائزے مکمل کر چکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مکہ معاہدہ اوپن ہے تاہم اس میں نئے ممالک کی شمولیت کے بارے میں فی الحال کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ چین اور امریکا کے ساتھ پاکستان کے مذاکرات کے فورمز کھلے ہیں۔ پاکستان میری ٹائم سیکیورٹی معاہدے کا حصہ ہے اور اس پر عمل درآمد کر رہا ہے۔
طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار پریس بریفنگ میں کہا ہے کہ وزیر داخلہ محسن نقوی ایران کے دورے پر ہیں، تاہم انہیں دورے کے دوران کسی خصوصی پیغام کا علم نہیں۔

ترجمان نے کہا کہ اسلام آباد میں مذاکرات فریقین کی رضامندی سے کسی بھی وقت دوبارہ شروع ہو سکتے ہیں۔ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے بارے میں پاکستان اپنا مؤقف واضح کر چکا ہے، اگرچہ اس پر مکمل عمل درآمد شاید نہ ہو سکا ہو، تاہم امن کے لیے بنیادی فریم ورک اب بھی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت ہی ہے۔

طاہر حسین اندرابی نے کہا کہ جنگ بندی میں فریقین کی رضامندی سے توسیع کی جا سکتی ہے، جس سے مذاکرات کی بحالی کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔

مکہ معاہدے کے حوالے سے ترجمان نے کہا کہ پاکستان نے معاہدے کے لیے تمام قانونی تقاضے پورے کیے، وزیراعظم نے بطور لیڈر آف دی ہاؤس معاہدے پر دستخط کیے۔ کسی متعلقہ ادارے کو اعتماد میں نہ لینے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

انہوں نے مکہ معاہدے پر ریاستی اداروں کے درمیان اختلاف رائے کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس تاثر کی سختی سے نفی کرتے ہیں۔ ترجمان کے مطابق پاکستان کے اداروں میں اختلافات سے متعلق پروپیگنڈا ایک ہمسایہ ملک کی جانب سے کیا جا رہا ہے۔