سائیکل کی ایجاد اورناول فرینکسٹائن وجودمیں آنے کے پیچھے ایک آتش فشاں
اپریل 1815ء میں انڈونیشیا کاماؤنٹ ٹمبوراپھٹ گیاتھا
تصویر: سوشل میڈیا
کیا آپ یقین کریں گے کہ سائیکل موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے ایجاد ہوئی تھی، اور دنیا کا مشہور ناول’’فرینکنسٹائن‘‘بھی خراب موسم کا نتیجہ تھا؟سننے میں یہ بات عجیب لگتی ہے، لیکن تاریخ یہی بتاتی ہے۔
کہانی شروع ہوتی ہے اپریل 1815ء میں۔ انڈونیشیا کا آتش فشاںماؤنٹ ٹمبوراپھٹ گیا۔یہ ایک ہزارسال کی شدیدترین تباہی لایا۔ اس دھماکے سے صرف مقامی آبادی ہی تباہ نہیں ہوئی بلکہ لاکھوں ٹن راکھ اور سلفر فضا میں پہنچ گئے۔ سورج کی روشنی کم ہونے لگی اور اگلا سال، یعنی 1816ء، بغیر موسمِ گرما کا سال کے نام سے مشہور ہو ا۔
یورپ اور شمالی امریکہ میں شدید سردی، مسلسل بارشیں اور برف باری نے فصلیں تباہ کر دیں۔ غذائی قلت پیدا ہوئی، قحط پھیلا اورچارہ اتنا مہنگا ہوگیا کہ لوگوں نے گھوڑے پالنا چھوڑ دیے۔یہیں ایک حیران کن موڑ آیا۔ جرمنی کے موجد کارل ڈریس نے سوچا کہ اگر گھوڑا پالنا مشکل ہو گیا ہے تو انسان کی اپنی طاقت سے چلنے والی سواری بنائی جائے۔
تفصیل اس وڈیومیں۔