ہنزہ میں زلزلے کے جھٹکے، لینڈ سلائیڈنگ سے زمینی رابطہ منقطع

زلزلے کے نتیجے میں پہاڑی تودے گرنے سے علاقے میں آمدورفت کا واحد زمینی راستہ بند ہوگیا، جبکہ کئی گھروں کو بھی نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں

August 13, 2026 · قومی

ہنزہ: گلگت بلتستان کے ضلع ہنزہ کی وادی چپورسن میں آج صبح زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے، جس کے بعد رمنجی کے قریب لینڈ سلائیڈنگ سے متعدد مکانات کو نقصان پہنچا اور وادی کا زمینی رابطہ متاثر ہوگیا۔

مقامی ذرائع کے مطابق زلزلے کے نتیجے میں پہاڑی تودے گرنے سے علاقے میں آمدورفت کا واحد زمینی راستہ بند ہوگیا، جبکہ کئی گھروں کو بھی نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں۔ ابتدائی طور پر کسی جانی نقصان کی اطلاع سامنے نہیں آئی۔

چپورسن کے رہائشیوں کے مطابق یہ علاقہ گزشتہ کئی ماہ سے مسلسل زلزلوں اور زمینی سرگرمیوں سے متاثر ہے۔ مسلسل خطرے کے باعث بعض خاندان محفوظ مقامات کی جانب منتقل ہوچکے ہیں۔

چپورسن ہنزہ کی آخری وادیوں میں شمار ہوتی ہے اور پاک افغان سرحد کے قریب واخان کوریڈور سے متصل ہے۔ یہ علاقہ رواں سال جنوری میں بھی شدید زلزلے سے متاثر ہوا تھا، جس کے دوران متعدد مکانات کو نقصان پہنچا جبکہ لینڈ سلائیڈنگ کے باعث وادی کی جانب جانے والی سڑک بند ہوگئی تھی۔

متعلقہ اداروں کے مطابق علاقے میں آنے والے زلزلوں کو مقامی فالٹ لائن سے منسلک کیا گیا ہے۔ بعض ماہرین نے فالٹ لائن کے ساتھ گلیشیئرز اور زیرِ زمین زمینی حرکات کو بھی زلزلہ خیزی کی ممکنہ وجوہات میں شامل قرار دیا ہے۔

متاثرہ علاقے میں گزشتہ کئی ماہ کے دوران زلزلے کے متعدد جھٹکے محسوس کیے جاچکے ہیں، جن کی شدت مختلف مواقع پر 4.5 سے 5.4 تک ریکارڈ ہونے کی اطلاعات ہیں۔

مسلسل زلزلوں اور لینڈ سلائیڈنگ کے خطرے کے باعث چپورسن کے کئی مکین اپنے گھروں کو چھوڑ کر دیگر علاقوں میں منتقل ہونے پر مجبور ہیں، جبکہ موجودہ صورتحال کے بعد علاقے میں مزید احتیاطی اقدامات کی ضرورت بڑھ گئی ہے۔