میر رضا علی قتل کیس میں اہم پیشرفت،پولیس نے رپورٹ عدالت میں جمع کرا دی
مقدمے میں قتل اور شواہد چھپانے سے متعلق دفعات شامل کردی گئی ہیں۔
کراچی میں میر رضا علی قتل کیس کی تفتیش میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ پولیس نے مقدمے میں ترمیم کے بعد ابتدائی اطلاعی رپورٹ جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت میں جمع کرا دی، جسے عدالت نے ریکارڈ کا حصہ بنا لیا۔
پولیس کے مطابق 8 اگست کی میڈیکل رپورٹ میں میر رضا کی موت قتل کا نتیجہ ہونے کے امکانات ظاہر کیے گئے تھے، جس کے بعد مقدمے میں قتل اور شواہد چھپانے سے متعلق دفعات شامل کردی گئی ہیں۔
پولیس نے عدالت کو بتایا کہ مجسٹریٹ کی نگرانی میں میر رضا کی قبر کشائی بھی کی گئی۔ قبر کشائی اور ابتدائی طبی معائنے کے بعد مقدمے میں قتل سمیت مزید دفعات شامل کی گئیں۔
پولیس رپورٹ کے مطابق 28 جولائی کی رات میر رضا اپنی دکان ’واِف لکس‘ سے گھر پہنچا تھا۔ گھر آنے کے بعد اس نے اپنی والدہ کو بتایا کہ وہ پی ای سی ایچ ایس میں واقع دوسرے گھر جائے گا۔
رپورٹ کے مطابق میر رضا رات تقریباً 4 بجے دوسرے گھر کے لیے روانہ ہوا۔ کافی وقت گزرنے کے بعد اہلخانہ نے اس سے رابطہ کرنے کی کوشش کی تو موبائل فون بند ملا، جس پر ابتدائی طور پر اہلخانہ کی جانب سے اغوا کا مقدمہ درج کرایا گیا تھا۔
پولیس کے مطابق کیس کی مزید تفتیش کے لیے نئی تحقیقاتی کمیٹی بھی تشکیل دے دی گئی ہے، جو واقعے کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لے رہی ہے۔