پاکستان کا ایران سے گیس پائپ لائن منصوبہ منسوخ کرنے یا قابل عمل بنانے کا مطالبہ
امریکی پابندیوں سے استثنیٰ لیاجائے،اسلام آباد ۔ نئے سرے سے مذاکرات
ایران پاکستان گیس پائپ لائن۔ فائل فوٹو
پاکستان نے ایران سے درخواست کی ہے کہ ایران،پاکستان (آئی پی) پائپ لائن منصوبے کے تحت گیس کی قیمتوں میں 50 فیصد تک کمی کی جائے۔متعلقہ معاہدے پر دوبارہ مذاکرات کے دوران، پاکستان اس منصوبے کے تحت گیس کی مقدار بھی کم کرنا چاہتا ہے کیونکہ ملک میں مختلف شعبے زیادہ قیمتوں پر توانائی کی سپلائی لینے میں دلچسپی نہیں رکھتے۔
اس وقت مقامی تقسیم کار کمپنیاں کھاد کے کارخانوں کو1500روپے (یا5اعشاریہ 7 ڈالر) فی ملین برٹش تھرمل یونٹ (mmBtu) اور گھریلو صارفین کو 1ہزار روپے (یا3اعشاریہ 57ڈالر) کے حساب سے گیس فراہم کر رہی ہیں۔
بجلی پیدا کرنے والے اداروں (پاور پروڈیوسرز) نے2 ہزارروپے فی ایم ایم بی ٹی یو سے زائد قیمت پر درآمدی گیس خریدنے سے معذرت کا اظہار کیا ہے، جو ڈالر کی صورت میں7 اعشاریہ 14 ڈالر بنتی ہے۔ حکومت نے اسے آئی پی گیس پائپ لائن کے لیے ایک تجارتی طور پر پائیدار مارکیٹ بینچ مارک (معیار) کے طور پر مقرر کیا ہے۔
پاکستان پہلے ہی واضح کر چکا ہے کہ وہ اس منصوبے کو صرف اسی صورت میں آگے بڑھا سکتا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کو پابندیوں سے استثنیٰ (waiver) دیں۔ حکومت نے ان امیدوں کے پیشِ نظر ایران کے ساتھ آئی پی پائپ لائن پر مذاکرات کا ایک منصوبہ تیار کیا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان امن معاہدہ طے پا سکتا ہے، جس کے نتیجے میں تہران پر عائد پابندیاں ختم ہو جائیں گی۔
پاکستان کی حکومت نے یہ مشاہدہ کیا ہے کہ آئی پی گیس پائپ لائن کی قیمت مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی لاگت سے بھی زیادہ ہے۔ اس سے قبل، قطر سے ایل این جی کی درآمد پر کافی تنقید کی گئی تھی کیونکہ زیادہ قیمتوں کی وجہ سے کوئی بھی شعبہ اسے استعمال کرنے کے لیے تیار نہیں تھا۔ کم مانگ کی وجہ سے، امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ چھڑنے سے پہلے پاکستان اور قطر نے ایل این جی کے 24 کارگو دوسری طرف موڑنے کا معاہدہ کیا تھا۔
ایل این جی کی درآمدات کے لیے جگہ بنانے کی خاطر گیس فیلڈز سے سپلائی کم کیے جانے کے باعث پاکستان کی تیل اور گیس تلاش کرنے والی کمپنیوں کو بھی اربوں روپے کا نقصان اٹھانا پڑا ہے۔
حکومتی حساب کتاب کے مطابق، آئی پی پائپ لائن کے لیے گیس کی موجودہ قیمت10اعشاریہ 6 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو ہے، جو2ہزار 970روپے بنتی ہے۔ مزید برآں، حب سے نواب شاہ تک نقل و حمل (ٹرانسپورٹیشن) کی لاگت کا تخمینہ1اعشاریہ 25 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو یا 350 روپے لگایا گیا ہے۔
برینٹ خام تیل کی قیمتیں بالترتیب 60، 70 اور 80 ڈالر فی بیرل ہونے کی صورت میں، آئی پی گیس کی قیمت کا تخمینہ8اعشارہ 20،9اعشاریہ 40اور10اعشاریہ 60 ڈالر فی mmBtu لگایا گیا تھا۔ اس کے برعکس، پاکستان اسٹیٹ آئل (پی ایس او) کے سیلز اینڈ پرچیز ایگریمنٹ2 کے تحت فراہم کی جانے والی ایل این جی کی لاگت بالترتیب 7اعشاریہ 17،8اعشاریہ 16اور9 اعشاریہ 18ڈالر فی mmBtu ہوگی۔