شرجیل میمن کا ن لیگ پر دھاندلی کا الزام، ’فارم 47 پلس‘ قرار دے دیا

انتخابی نتائج تبدیل کرکے حکومت تو بنائی جا سکتی ہے لیکن عوامی مقبولیت حاصل نہیں کی جا سکتی۔

August 15, 2026 · قومی

سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے آزاد کشمیر کے حالیہ انتخابی نتائج پر مسلم لیگ ن کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ ان نتائج کو تاریخ میں ’فارم 47 پلس‘ کے نام سے یاد رکھا جائے گا۔

شرجیل میمن نے نواز شریف اور مریم نواز کے بیانات پر ردعمل دیتے ہوئے الزام عائد کیا کہ مسلم لیگ ن نے مبینہ دھاندلی کے ذریعے کامیابی حاصل کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام نے 2024 میں بھی مسلم لیگ ن کو مسترد کیا تھا اور 2026 کے انتخابات میں بھی اپنا فیصلہ سنا دیا، تاہم ان کے بقول انتخابی نتائج تبدیل کرکے حکومت تو بنائی جا سکتی ہے لیکن عوامی مقبولیت حاصل نہیں کی جا سکتی۔

انہوں نے کہا کہ نواز شریف کی جانب سے پیپلز پارٹی کی شکایات پر حیرت کا اظہار افسوسناک ہے۔ شرجیل میمن کے مطابق مسلم لیگ ن کی قیادت کو پیپلز پارٹی سے شکوہ کرنے سے پہلے آزاد کشمیر میں پیدا ہونے والی سیاسی صورتحال کو بھی دیکھنا چاہیے۔

سندھ کے وزیر نے کہا کہ پیپلز پارٹی جمہوری اصولوں، عوامی مینڈیٹ اور سیاسی برداشت پر یقین رکھتی ہے۔ ان کے مطابق اگر انتخابی عمل میں بے ضابطگیوں سے متعلق سوالات اٹھیں تو ان پر آواز بلند کرنا سیاسی جماعتوں کا جمہوری حق ہے۔

شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کسی سیاسی جماعت سے دشمنی نہیں چاہتی اور سیاسی اختلافات کو ذاتی دشمنی میں تبدیل نہیں ہونا چاہیے۔ انہوں نے زور دیا کہ انتخابی عمل پر سنجیدہ اعتراضات سامنے آنے کی صورت میں انہیں شفاف اور غیر جانب دار طریقے سے حل کیا جانا چاہیے۔

مریم نواز کی جانب سے گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے انتخابات کا موازنہ کرنے پر بھی شرجیل میمن نے اختلاف کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی نے جہاں عوام کے مینڈیٹ کو تسلیم کیا، وہیں انتخابی عمل سے متعلق تحفظات کو جمہوری انداز میں سامنے بھی رکھا۔

انہوں نے مزید کہا کہ پیپلز پارٹی وفاق کی تمام اکائیوں کے حقوق، جمہوری اداروں کے استحکام اور ووٹ کے احترام کی حمایت کرتی ہے۔ ان کے مطابق سیاسی مخالفت جمہوری عمل کا حصہ ہے، تاہم عوامی مینڈیٹ کو کمزور کرنے کے لیے طاقت کے استعمال کو قبول نہیں کیا جاسکتا۔