عمران خان کی اسپتال منتقلی کیخلاف چیف کمشنر اسلام آباد کی طرف سے پٹیشن دائر

فریقین کو نوٹس جاری نہیں کیے گئے، عبوری مرحلے پر حتمی ریلیف دے دیا گیا، متن

August 19, 2026 · قومی
فائل فوٹو

فائل فوٹو

سپریم کورٹ آف پاکستان کے حالیہ فیصلے کے خلاف وفاقی حکومت نے نظر ثانی کی درخواست دائر کر دی ہے، جس میں بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان کو اڈیالہ جیل سے شفاء انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔

بانی پی ٹی آئی کی ہسپتال منتقلی کے فیصلے کے خلاف نظر ثانی درخواست چیف کمشنر اسلام آباد کی جانب سے ایڈوکیٹ جنرل اسلام آباد نے دائر کی۔

سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے 18 اگست 2026 کو عبوری حکم نامہ جاری کرتے ہوئے بانی پی ٹی آئی کو دو دن کے اندر شفاء انٹرنیشنل اسپتال اسلام آباد منتقل کرنے کی ہدایت کی تھی۔ عدالت نے میڈیکل بورڈ تشکیل دینے، ذاتی معالجین (ڈاکٹر فیصل سلطان اور ڈاکٹر عظمیٰ خان) کو علاج میں شامل رکھنے، ہفتے میں ایک بار اہل خانہ سے ملاقات اور بیٹوں سے ہفتے میں دو بار ٹیلیفونک رابطے کی بھی اجازت دی تھی۔ یہ حکم بانی پی ٹی آئی کی صحت کے خدشات، بلڈ پریشر کے اتار چڑھاؤ اور دیگر طبی مسائل کے پیش نظر جاری کیا گیا تھا۔

حکومت نے اس فیصلے کو چیلنج کرتے ہوئے چیف کمشنر اسلام آباد کے ذریعے ایڈوکیٹ جنرل اسلام آباد کے واسطے سے نظر ثانی کی درخواست دائر کی ہے۔ درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ:سپریم کورٹ کا حکم عدالت کے دائرہ اختیار سے تجاوز کرتا ہے۔

پاکستان جیل قوانین (Prison Rules 1978) کے تحت قیدی کو جیل سے باہر ہسپتال منتقل کرنے کا واضح طریقہ کار موجود ہے، جس میں سرکاری منظوری اور انسپکٹر جنرل جیلز کے ذریعے کارروائی ضروری ہے۔

نجی اسپتال میں منتقلی قانونی تقاضوں کے مطابق نہیں، اور قیدی کا علاج جیل کے اندر یا سرکاری ہسپتال میں ہونا چاہیے۔

درخواست میں کہا گیا کہ یہ حکم عبوری مرحلے پر حتمی نوعیت کا ریلیف فراہم کرتا ہے، جبکہ متعلقہ فریقین (بشمول چیف کمشنر) کو باقاعدہ نوٹس جاری نہیں کیا گیا تھا۔

وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے اس سے قبل کہا تھا کہ حکومت عدالتی حکم کا جائزہ لے کر نظر ثانی کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کرے گی تاکہ بانی پی ٹی آئی کا معائنہ سرکاری ہسپتال میں کرایا جا سکے۔ انہوں نے یہ بھی سوال اٹھایا کہ کیا یہ پروٹوکول دیگر بیمار قیدیوں کے لیے بھی دستیاب ہوگا۔

سوشل میڈیا پر حکومت کے حامی اکاؤنٹس یہ بھی دعویٰ کر رہے ہیں کہ شفاء انٹرنیشنل اسپتال منتقلی شدید سیکیورٹی رسک ہے، کیونکہ پی ٹی آئی ورکرز نے اسپتال کے دروازوں اور راستوں کی ویڈیوز بنا کر تشہیر کی ہے، جو سیکیورٹی پلان کو لیک کرنے کے مترادف ہے۔ موجودہ دہشت گردی کے خطرات کے پیش نظر، عام عوامی اسپتال میں ہجوم جمع ہونے سے بانی پی ٹی آئی اور عام مریضوں کی حفاظت خطرے میں پڑ سکتی ہے۔ تجویز دی گئی کہ یا تو جیل کے اندر ماہر ڈاکٹروں کا بورڈ علاج کرے یا کسی محفوظ سرکاری اسپتال میں منتقل کیا جائے۔

بانی پی ٹی آئی ابھی تک اسپتال منتقل نہیں ہوئے ہیں، اور نظر ثانی کی درخواست پر سماعت کا شیڈول ابھی طے نہیں ہوا۔