حنا جاوید کیس:ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں جسم پر متعدد زخموں کا انکشاف

45 سالہ حنا جاوید کی گردن کی ہڈی میں فریکچر پایا گیا، جبکہ پسلیوں اور کولہے کی ہڈی پر بھی چوٹوں کے نشانات موجود تھے

August 24, 2026 · جرم وسزا
فائل فوٹو

فائل فوٹو

راولپنڈی: لالکڑتی میں شادی شدہ خاتون حنا جاوید کی ہاتھ بندھی اور گلے میں پھندہ لگی لاش ملنے کے واقعے کی ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ سامنے آگئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق 45 سالہ حنا جاوید کی گردن کی ہڈی میں فریکچر پایا گیا، جبکہ پسلیوں اور کولہے کی ہڈی پر بھی چوٹوں کے نشانات موجود تھے۔ رپورٹ میں دل کے گرد موجود جھلی میں خون جمع ہونے کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔

پولیس کے مطابق ڈاکٹر ماریا خالد نے حنا جاوید کا پوسٹ مارٹم موت کے تقریباً 12 گھنٹے بعد کیا۔ مقتولہ کے ڈی این اے سمیت دیگر ضروری نمونے حاصل کرکے فرانزک تجزیے کے لیے لیبارٹری بھجوا دیے گئے ہیں۔

ابتدائی پوسٹ مارٹم میں موت کی حتمی وجہ سامنے نہیں آسکی۔ پولیس کے مطابق فرانزک رپورٹس اور حتمی پوسٹ مارٹم رپورٹ موصول ہونے کے بعد موت کی اصل وجہ سے متعلق مزید شواہد سامنے آنے کی توقع ہے۔

پولیس کو فراہم کردہ ابتدائی معلومات میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ مقتولہ کو اس کے شوہر نے پھندا دے کر لٹکایا۔ تاہم اس الزام کی حتمی تصدیق تفتیش اور فرانزک شواہد سامنے آنے کے بعد ہوگی۔

واقعے کا مقدمہ مقتولہ کے بھائی فہد جاوید کی مدعیت میں تھانہ سول لائنز میں درج کیا گیا ہے۔ پولیس نے مقتولہ کے شوہر اور گھریلو ملازم کو گرفتار کر رکھا ہے اور عدالت سے دونوں کا تین روزہ جسمانی ریمانڈ حاصل کیا گیا ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کی مختلف پہلوؤں سے تفتیش جاری ہے، جبکہ فرانزک نتائج اور حتمی طبی رپورٹ کی بنیاد پر موت کی اصل وجہ کا تعین کیا جائے گا۔