نرسری میں 50 سے 55 بچے تھے، سب جل گئے‘جاں بحق نومولود کےوالد کا دعویٰ
عام شہریوں کے لیے بنیادی سہولیات اور تحفظ کا مناسب انتظام نہیں، جبکہ بااثر افراد کے لیے سکیورٹی کے خصوصی انتظامات کیے جاتے ہیں۔
فوٹو سوشل میڈیا
اسلام آباد: پمز اسپتال کی نرسری میں آتشزدگی کے نتیجے میں نومولود بچوں کی ہلاکت کے بعد متاثرہ خاندانوں کا غم اور غصہ شدت اختیار کر گیا ہے۔
اسپتال کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایک جاں بحق نومولود کے والد نے دعویٰ کیا کہ وہ روزانہ نرسری میں اپنی بچی کو دیکھنے جاتے تھے، جہاں ان کے مطابق 50 سے 55 بچے موجود رہتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے علم کے مطابق نرسری میں موجود بچے آگ کی لپیٹ میں آ گئے اور کوئی بھی محفوظ نہ رہ سکا۔
متاثرہ والد نے حکومتی و انتظامی نظام پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ عام شہریوں کے لیے بنیادی سہولیات اور تحفظ کا مناسب انتظام نہیں، جبکہ بااثر افراد کے لیے سکیورٹی کے خصوصی انتظامات کیے جاتے ہیں۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ فائر بریگیڈ اور انتظامیہ کی گاڑیاں مبینہ طور پر صبح 9 بجے کے قریب اسپتال پہنچیں۔ والد کا کہنا تھا کہ حادثے کے بعد سے وہ اپنی بچی کو نہیں دیکھ سکے اور انہیں نرسری کے اندر جانے کی اجازت بھی نہیں دی جا رہی۔
واقعے کے بعد متاثرہ خاندانوں کی جانب سے تحقیقات، ذمہ داروں کے تعین اور فوری کارروائی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔
واضح رہے کہ پمز اسپتال کی نرسری میں آتشزدگی کے نتیجے میں متعدد نومولود جاں بحق ہوئے، جبکہ واقعے کی وجوہات اور انتظامی غفلت سے متعلق تحقیقات جاری ہیں۔ حکومت کی جانب سے بھی معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ حکام کے خلاف کارروائی کا آغاز کیا گیا ہے۔