پمز آتشزدگی،طلال چوہدری نے ریسکیو آپریشن میں غفلت مسترد کردی

اسلام آباد کے مختلف علاقوں اور سڑکوں پر کیمرے نصب ہیں جبکہ شہریوں کے پاس بھی موبائل فون موجود ہوتے ہیں

August 26, 2026 · قومی
فوٹو سوشل میڈیا(ایکس)

فوٹو سوشل میڈیا(ایکس)

اسلام آباد: پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) ہسپتال کے گائنی وارڈ کی نرسری میں بدھ کی صبح ہونے والی ہولناک آتشزدگی کے نتیجے میں 14 نومولود جاں بحق ہوگئے، جبکہ ایک بچے کو بحفاظت نکال لیا گیا۔

حکام کے مطابق نرسری میں صبح تقریباً 6 بج کر 45 منٹ پر ایئر کنڈیشنر کے کمپریسر میں دھماکے کے بعد آگ بھڑک اٹھی۔ واقعے کے وقت نرسری میں 15 نومولود موجود تھے، جن میں سے صرف ایک کو ریسکیو کرکے محفوظ مقام پر منتقل کیا جا سکا۔

وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے پمز ہسپتال کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد انتظامیہ کی جانب سے ریسکیو آپریشن میں کسی قسم کی غفلت نہیں برتی گئی۔ ان کے مطابق امدادی ٹیمیں بروقت موقع پر پہنچیں اور اپنی ذمہ داریاں انجام دیں۔

طلال چوہدری نے کہا کہ واقعے سے متعلق حقائق سامنے لانے کے لیے شفاف تحقیقات ضروری ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اسلام آباد کے مختلف علاقوں اور سڑکوں پر کیمرے نصب ہیں جبکہ شہریوں کے پاس بھی موبائل فون موجود ہوتے ہیں، اس لیے کسی بھی معاملے میں غلط بیانی کو جانچنا ممکن ہے۔

آتشزدگی کے بعد فائر بریگیڈ کی متعدد گاڑیاں اور ایمبولینسیں موقع پر پہنچیں اور امدادی کارروائی میں حصہ لیا۔

واقعے کا وزیراعظم شہباز شریف نے نوٹس لیتے ہوئے فوری تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔ حادثے کی وجوہات، حفاظتی انتظامات اور ممکنہ غفلت کا تعین کرنے کے لیے انکوائری کمیٹی بھی تشکیل دے دی گئی ہے۔

دوسری جانب نومولود بچوں کے جاں بحق ہونے پر متاثرہ خاندانوں میں شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔ ہسپتال انتظامیہ کی جانب سے جاں بحق بچوں کی شناخت اور دیگر ضروری کارروائی کا عمل جاری ہے۔