پمز نرسری سانحہ،اسپتال کی دستاویز میں 15 نومولود بچوں کا ریکارڈ سامنے آگیا

14 بچوں کو زیرِ علاج/داخل دکھایا گیا ہے جبکہ 15ویں نومولود کو ریسکیو کیے جانے کا ذکر موجود ہے۔

August 26, 2026 · قومی
فوٹو سوشل میڈیا

فوٹو سوشل میڈیا

اسلام آباد: پمز اسپتال کی نرسری میں پیش آنے والے افسوسناک آتشزدگی کے واقعے کے بعد اسپتال کی دستاویز میں نرسری میں موجود نومولود بچوں کا ریکارڈ سامنے آیا ہے۔

دستاویز کے مطابق واقعے کے وقت نرسری میں 15 نومولود بچے موجود تھے، جن میں سے 14 بچوں کو زیرِ علاج/داخل دکھایا گیا ہے جبکہ 15ویں نومولود کو ریسکیو کیے جانے کا ذکر موجود ہے۔

اسپتال کے ریکارڈ کے مطابق

بچے نمبر 1: خاتون جویریہ کا نومولود بچہ، والد کا نام سمیع اللہ۔

بچہ نمبر 2: خاتون عالیہ کانومولود بچہ، والد کا نام راشد۔

بچہ نمبر 3: خاتون انیسہ کا نومولود بچہ، والد کا نام عبداللہ۔

بچہ نمبر 4: خاتون آسیہ بی بی کا نومولود بچہ، والد کا نام بہادر، ٹوئن ون۔

بچہ نمبر 5: خاتون آسیہ بی بی کا نومولود بچہ، والد کا نام بہادر، ٹوئن ٹو۔

بچہ نمبر 6: خاتون شکیلہ کا نومولود بچہ، والد کا نام محمد تنویر۔

بچہ نمبر 7: خاتون سدرہ کا نومولود بچہ، والد کا نام عمران۔

بچہ نمبر 8:خاتون سنبل کا نومولود بچہ، والد کا نام عثمان۔

بچہ نمبر 9: خاتون کرن فاطمہ کا نومولود بچہ، والد کا نام محمد سعد الرحمٰن۔

بچہ نمبر 10: خاتون آمنہ کا نومولود بچہ، والد کا نام خرم۔

بچہ نمبر 11: خاتون ماریہ کا نومولود بچہ، والد کا نام قیوم۔

بچہ نمبر 12: خاتون خضرہ کا نومولود بچہ، والد کا نام مدثر۔

بچہ نمبر 13: خاتون حفصہ کا نومولود بچہ، ایم ایل سی کیس، والد کا نام اشتیاق۔

بچہ نمبر 14: خاتون عروسہ سعید کا نومولود بچے، والد کا نام عدریس خان۔

بچہ نمبر 15: آصفہ کے نومولود بچے، والد کا نام وقاص، ریسکیو کر لیا گیا

 

ریکارڈ کے مطابق آصفہ کے نومولود بچے کو ریسکیو کیا گیا۔ دستاویز میں دیگر نومولود بچوں کے والدین کے نام بھی درج ہیں۔

پمز نرسری میں آتشزدگی کے بعد بچوں کی ہلاکت کے معاملے پر مختلف سوالات اٹھ رہے ہیں، جبکہ واقعے کی وجوہات، ریسکیو آپریشن اور ہسپتال میں حفاظتی انتظامات سے متعلق تحقیقات جاری ہیں۔