امریکہ سے 10ارب ڈالر زرمبادلہ فنڈنگ پر مذاکرات انتہائی تعمیری رہے،مشیر خزانہ
ستمبر تک پیش رفت متوقع ہے
فائل فوٹو
پاکستان کو امریکا سے 10 ارب ڈالر کے استحکام فنڈ پر جلد جواب کی توقع ہے۔ وزارت خزانہ کے مشیر خرم شہزاد کا کہنا ہے کہ امریکی حکام کے ساتھ مجوزہ فنڈ پر مذاکرات انتہائی تعمیری رہے ہیں۔
پاکستان کو توقع ہے کہ واشنگٹن حکومت آئندہ چند ماہ میں اس کی 10 ارب ڈالر کی دوطرفہ استحکام سہولت کی درخواست پر اپنا جواب دے دے گا۔ اسلام آباد ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ اپنے بہتر ہوتے ہوئے تعلقات کو مزید آگے بڑھانے کا خواہاں ہے۔
مشیر خزانہ خرم شہزاد نے بلومبرگ کو بتایا کہ مجوزہ سہولت کے حوالے سے امریکا کے ساتھ بات چیت انتہائی تعمیری رہی ہے۔ خرم شہزاد نے کہا کہ مجوزہ امریکی استحکام سہولت ایک ممکنہ بیک اسٹاپ اور اعتماد کے اشارے کے طور پر بھی کام کرے گی جو مارکیٹ تک رسائی میں معاون ثابت ہوگی اور نجی سرمایہ کاری کو راغب کرنے میں مدد دے گی۔
پاکستان نے گزشتہ ماہ امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ سے رابطہ کیا تھا اور 5 سال کی مدت کا دوطرفہ زرمبادلہ استحکام سپورٹ فنڈ مانگا تھا۔
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے گزشتہ ہفتے اس درخواست کی تصدیق کرتے ہوئے کہا تھا کہ مجوزہ انتظامات کا مقصد کسی روایتی قرضے یا کریڈٹ فیسلیٹی کے طور پر کام کرنے کے بجائے کرنسی اور زرمبادلہ کی مارکیٹ کے لیے استحکام کا اشارہ فراہم کرنا ہے۔
10 ارب ڈالر کی اس سہولت کے حوالے سے وضاحت کرتے ہوئے محمد اورنگزیب نے کہا کہ یہ کسی کریڈٹ لائن یا قرضے کے بارے میں نہیں بلکہ یہ ہماری کرنسی کے استحکام اور ایکسچینج ریٹ کے استحکام کے بارے میں ایک اشارہ ہے اور اس کے نتیجے میں ہمیں قرض اٹھانے کے لیے مارکیٹس میں جانے کی صلاحیت ملتی ہے۔
محمد اورنگزیب نے مزید کہا کہ یہ درخواست امریکی محکمہ خزانہ کے زیر غور ہے اور ستمبر تک اس میں پیش رفت متوقع ہے۔ اگر اس کی منظوری مل جاتی ہے تو یہ سہولت پاکستان کو اس وقت اضافی مالیاتی مدد فراہم کر سکتی ہے جب معاشی مشکلات کا شکار معیشت اپنی بیرونی پوزیشن کو مضبوط کرنے کے لیے کام کر رہی ہے۔
یہ درخواست ایران جنگ کے معاملے پر مذاکرات طے کرانے میں پاکستان کے کردار کے بعد سامنے آئی ہے جس سے اس کے سفارتی قد میں اضافہ ہوا اور یہ امید پیدا ہوئی کہ وہ واشنگٹن اور دیگر شراکت داروں سے معاشی فوائد حاصل کر سکتا ہے۔
امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ سے کی جانے والی درخواست میں اسلام آباد حکومت امریکی اور پاکستان کے درمیان 10 ارب ڈالر مالیت کے دوطرفہ زرمبادلہ استحکام سپورٹ فنڈ حاصل کرنے کی کوشش میں ہے جس کی مدت 5 سال تک ہوگی۔
اگر اس فنڈ پر اتفاق ہو جاتا ہے تو یہ پاکستان کے ذخائر کو تقویت دے گا، روپے پر دباؤ کو کم کرے گا اور کثیر جہتی مالی معاونت پر انحصار میں کمی لائے گا۔دوسری جانب موڈیز نےگذشتہ دنوں پاکستان کی ریٹنگ کو بڑھا کر B3 کر دیا تھا لیکن یہ بھی کہا ہے کہ بین الاقوامی سروے قانون کی حکمرانی اور بدعنوانی پر قابو پانے کی کمزوریوں اور حکومت کی محدود تاثیر کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ اس ایجنسی نے انتہائی قیاس آرائی پر مبنی B3 ریٹنگ دی ہے جو investimento گریڈ سے 7 درجے نیچے ہے۔ موڈیز نے پاکستان کو Caa1 سے ترقی دی ہے جو کہ کافی خطرے کی درجہ بندی ہے۔