پمز واقعے نے پوری قوم کو غمزدہ کر دیا:حافظ نعیم الرحمٰن
پمز اسپتال میں حفاظتی انتظامات ناکافی تھے اور ڈاکٹروں و طبی عملے کی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کیلئے تربیت کا مؤثر نظام موجود نہیں تھا۔
فائل فوٹو
اسلام آباد: جماعت اسلامی کا پیٹرولیم لیوی اور مہنگائی کے خلاف دھرنا 12ویں روز میں داخل ہوگیا۔ امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمٰن نے حکومت پر ناقص حکمرانی، انتظامی غفلت اور مہنگائی سمیت مختلف امور پر شدید تنقید کی۔
دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ پمز اسپتال کا افسوسناک واقعہ پوری قوم کیلئے باعثِ غم ہے۔ ان کے مطابق ایسے واقعات کی روک تھام کیلئے حفاظتی اقدامات اور مؤثر انتظامی نظام قائم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔
حافظ نعیم الرحمٰن نے دعویٰ کیا کہ پمز اسپتال میں حفاظتی انتظامات ناکافی تھے اور ڈاکٹروں و طبی عملے کی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کیلئے تربیت کا مؤثر نظام موجود نہیں تھا۔
انہوں نے کہا کہ کسی بھی سانحے کے بعد صرف افسران کو معطل کرنا کافی نہیں، بلکہ واقعے کی مکمل تحقیقات کرکے ذمہ دار افراد کا تعین کیا جانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہر حادثے کے بعد حکومت اقدامات کرنے کے بجائے اگلے سانحے کا انتظار کرتی دکھائی دیتی ہے۔
امیر جماعت اسلامی نے وفاقی حکومت کی مجموعی کارکردگی پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں گورننس کے مسائل سنگین ہوچکے ہیں۔ انہوں نے حکمران جماعتوں پر نااہلی اور کرپشن کے الزامات بھی عائد کیے۔
حافظ نعیم الرحمٰن نے صحت کے شعبے سے متعلق کراچی کے بچوں میں ایچ آئی وی پھیلنے کے معاملے کا بھی ذکر کیا اور صحت کے نظام میں بہتری لانے کا مطالبہ کیا۔
جماعت اسلامی کے دھرنے کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ احتجاج کا مقصد صرف جماعت کے مفادات نہیں بلکہ عوام کو درپیش مسائل اجاگر کرنا ہے۔ انہوں نے پیٹرولیم لیوی ختم کرکے پیٹرول کی قیمت کم کرنے اور آئی پی پیز کے معاہدوں پر نظرثانی کا مطالبہ کیا۔
حافظ نعیم الرحمٰن کا کہنا تھا کہ دھرنے کے ذریعے عوام کو توانائی کے شعبے اور آئی پی پیز سے متعلق مسائل سے آگاہ کیا گیا ہے اور جماعت اسلامی اپنے مطالبات کے حصول کیلئے احتجاج جاری رکھے گی۔