کراچی چھوٹا خیابان بخاری میں’پولیس افسر کی سالی’کا پولیس کی موجودگی میں پڑوسیوں پر تشدد
خاتون اس سے قبل بھی بعض افراد کے ساتھ مبینہ طور پر بدسلوکی یا تشدد کے واقعات میں ملوث رہی ہیں، جبکہ ایک سرکاری گاڑی کے مبینہ طور پر اس کے استعمال میں ہونے کا دعویٰ بھی کیا گیا ہے۔علاقہ مکینوں کا دعویٰ
فوٹو سوشل میڈیا (فیس بک)
کراچی: چھوٹا خیابانِ بخاری میں خواتین کے درمیان ہونے والے مبینہ جھگڑے کی ویڈیوز واقعے کے تقریباً 9 روز بعد سامنے آگئی ہیں۔ ویڈیوز میں ایک خاتون کو پڑوسی خاندان کے افراد کے ساتھ مبینہ طور پر تشدد کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے، جبکہ موقع پر پولیس اہلکار بھی موجود ہیں۔
نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق مریم نامی خاتون کو علاقے کے مکین ایک پولیس افسر کی رشتہ دار قرار دے رہے ہیں۔ علاقہ مکینوں کا دعویٰ ہے کہ خاتون اس سے قبل بھی بعض افراد کے ساتھ مبینہ طور پر بدسلوکی یا تشدد کے واقعات میں ملوث رہی ہیں، جبکہ ایک سرکاری گاڑی کے مبینہ طور پر اس کے استعمال میں ہونے کا دعویٰ بھی کیا گیا ہے۔
سامنے آنے والی ایک ویڈیو میں خاتون کو لوہے کا ڈمبل اٹھا کر ایک شخص پر وار کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ ویڈیو میں چند پولیس اہلکار بھی موقع پر موجود دکھائی دیتے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق واقعے کے بعد متاثرہ خاندان کے خلاف بھی مقدمہ درج کیا گیا اور خاندان کے بعض افراد کو کچھ وقت کے لیے حراست میں لیا گیا۔ بعد ازاں متاثرہ خاندان کے افراد کے حوالے سے بتایا گیا کہ وہ منظر عام سے غائب ہیں۔
واقعے کی ویڈیوز سامنے آنے کے بعد پولیس کی موجودگی میں مبینہ تشدد اور مقدمے کے اندراج کے حوالے سے مختلف سوالات اٹھ رہے ہیں۔ تاہم واقعے میں ملوث افراد کے مؤقف اور پولیس کی جانب سے مکمل وضاحت سامنے آنا ابھی باقی ہے۔
حکام کی جانب سے واقعے کی شفاف تحقیقات کے بعد ہی یہ واضح ہوسکے گا کہ جھگڑے کی اصل وجہ کیا تھی، تشدد میں کون کون ملوث تھا اور موقع پر موجود پولیس اہلکاروں کا کردار کیا رہا۔