پمز سانحہ:وفاقی سرکاری ہسپتالوں میں فوری فائر سیفٹی آڈٹ کا فیصلہ

آڈٹ کے دوران ہسپتالوں میں نصب فائر الارم، آگ بجھانے کے آلات، ہنگامی راستوں اور عمارت سے محفوظ انخلا کے انتظامات کا جائزہ لیا جائے گا

August 29, 2026 · قومی
فائل فوٹو

فائل فوٹو

 

اسلام آباد: پمز میں پیش آنے والے افسوسناک آتشزدگی کے واقعے کے بعد وفاق کے زیر انتظام تمام سرکاری ہسپتالوں میں فائر سیفٹی کے فوری جائزے کا حکم دے دیا گیا ہے۔

وزیر صحت مصطفیٰ کمال کی ہدایت پر وزارت صحت نے اس حوالے سے باقاعدہ مراسلہ جاری کردیا ہے۔ حکام کے مطابق تمام متعلقہ ہسپتالوں میں جامع فائر سیفٹی آڈٹ ماہر اور مجاز فائر سیفٹی کمپنی کے ذریعے کرایا جائے گا۔

آڈٹ کے دوران ہسپتالوں میں نصب فائر الارم، آگ بجھانے کے آلات، ہنگامی راستوں اور عمارت سے محفوظ انخلا کے انتظامات کا جائزہ لیا جائے گا۔ اس کے علاوہ بجلی کے نظام اور دیگر ممکنہ آتشزدگی کے خطرات کی بھی جانچ کی جائے گی۔

وزارت صحت کے مطابق ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ہسپتال کے عملے کی تیاری اور فوری ردعمل کے انتظامات بھی آڈٹ کا حصہ ہوں گے۔ ایسی خامیوں کی نشاندہی ہونے پر جو انسانی جانوں یا املاک کے لیے فوری خطرہ بن سکتی ہیں، انہیں ترجیحی بنیادوں پر دور کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

تمام سرکاری ہسپتالوں کو آڈٹ شروع ہونے، متعلقہ فائر سیفٹی کمپنی کے نام اور جائزہ مکمل ہونے کی متوقع تاریخ سے وزارت صحت کو آگاہ کرنے کا کہا گیا ہے۔

دوسری جانب اسلام آباد ہیلتھ کیئر ریگولیٹری اتھارٹی کو سرکاری اور نجی صحت کے اداروں میں فائر سیفٹی آڈٹ شروع کرانے اور اس کی نگرانی کی ذمہ داری بھی سونپی گئی ہے۔

وزارت صحت کو پیش کی جانے والی جامع رپورٹ میں ان تمام اداروں کی تفصیلات شامل کی جائیں گی جہاں فائر سیفٹی آڈٹ مکمل یا شروع ہوچکا ہوگا، جبکہ زیر التوا اداروں کی نشاندہی بھی کی جائے گی۔