پمز آتشزدگی،باقی بچوں کو نہیں بچا سکی، یہ دکھ آج بھی ستاتا ہے، رضیہ نورین

مجھ سے سویا نہیں جاتا، وہ بچے مجھے سونے نہیں دیتے۔ میں نے بہت کوشش کی کہ باقی بچوں کو بھی بچا لوں، لیکن آگ بہت تیز تھی۔"

August 30, 2026 · قومی
فوٹو سوشل میڈیا

فوٹو سوشل میڈیا

اسلام آباد: پمز میں آتشزدگی کے دوران ایک بچے کو بچانے والی نرس رضیہ نورین کا کہنا ہے کہ حادثے کے بعد بھی وہ خود کو پرسکون نہیں کر پاتیں اور متاثرہ بچوں کی یاد انہیں سونے نہیں دیتی۔
نرس رضیہ نورین نے اپنے بیان میں کہا کہ وہ تمام بچوں کو بچانا چاہتی تھیں، لیکن آگ کی شدت بہت زیادہ تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے اپنی پوری کوشش کی کہ زیادہ سے زیادہ بچوں کو محفوظ مقام پر منتقل کیا جاسکے، تاہم وہ باقی بچوں کو نہ بچا سکیں۔
رضیہ نورین نے کہا، “مجھ سے سویا نہیں جاتا، وہ بچے مجھے سونے نہیں دیتے۔ میں نے بہت کوشش کی کہ باقی بچوں کو بھی بچا لوں، لیکن آگ بہت تیز تھی۔”
انہوں نے مزید کہا کہ انہوں نے کوئی احسان نہیں کیا بلکہ اپنی ڈیوٹی انجام دی۔ رضیہ نورین کے مطابق ایک نرس کی حیثیت سے بچوں کی حفاظت اور انہیں بچانے کی کوشش کرنا ان کی ذمہ داری تھی۔
حادثے کے دوران ایک بچے کو بچانے کے لیے رضیہ نورین کی کوشش کی ویڈیو اور ان کے بیان پر سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے بھی انہیں خراجِ تحسین پیش کیا جا رہا ہے۔ صارفین کا کہنا ہے کہ رضیہ نورین نے اپنی جان خطرے میں ڈال کر بچے کو بچانے کی کوشش کی، جو ان کی بہادری اور پیشہ ورانہ ذمہ داری کی عکاسی کرتی ہے۔
دوسری جانب بعض سوشل میڈیا صارفین نے یہ سوال بھی اٹھایا ہے کہ اگر دیگر موجود نرسیں بھی اسی طرح ہمت اور فوری اقدام کرتیں تو شاید مزید بچوں کو بچایا جاسکتا تھا۔