ہری پور میں ماں اور 4 بچوں کی گمشدگی،3 ماہ بعد بھی سراغ نہ مل سکا

خاتون کی والدہ نے میڈیا کے سامنے آکر اپنی بیٹی اور چاروں نواسوں کی بازیابی کے لیے حکومت اور پولیس سے فوری اقدامات کا مطالبہ

August 30, 2026 · قومی
ہری پور میں ماں اور 4 بچوں کی گمشدگی،3 ماہ بعد بھی سراغ نہ مل سکا

ہری پور میں ماں اور 4 بچوں کی گمشدگی،3 ماہ بعد بھی سراغ نہ مل سکا

ہری پور: تھانہ مکھنیال کی حدود سے مبینہ طور پر لاپتہ ہونے والی خاتون اور اس کے چار بچوں کا تین ماہ گزرنے کے باوجود تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا، جس کے باعث اہل خانہ شدید پریشانی میں مبتلا ہیں۔

پولیس ریکارڈ کے مطابق محمد مہربان ولد محمد صادق سکنہ سنگریزی نے اپنی اہلیہ فریدہ بی بی اور چار بچوں کی گمشدگی کی رپورٹ درج کرائی تھی۔ ایف آئی آر کے مطابق فریدہ بی بی کے ہمراہ ان کی 14 سالہ بیٹی سمیرہ بی بی، 10 سالہ بیٹا محمد نعمان، 6 سے 7 سالہ مصطفیٰ اور 4 سے 5 سالہ ابوبکر گھر سے لاپتہ ہوئے۔

ایف آئی آر کے متن کے مطابق محمد مہربان کام کے سلسلے میں راولپنڈی گئے ہوئے تھے۔ 28 مئی 2026 کو ان کے بھائی ارشد محمود نے فون کرکے اطلاع دی کہ گھر میں ان کی اہلیہ اور بچے موجود نہیں ہیں۔ اطلاع ملنے پر محمد مہربان گھر پہنچے تو گھر کے دروازے کھلے ہوئے تھے، تاہم اہلیہ اور بچے وہاں موجود نہیں تھے۔

رپورٹ کے مطابق مدعی نے اپنے طور پر رشتہ داروں اور دیگر ذرائع سے بھی اہل خانہ کی تلاش کی، تاہم ان کا کوئی سراغ نہ مل سکا۔ ابتدائی رپورٹ میں مدعی نے کسی سے دشمنی یا عداوت نہ ہونے اور کسی شخص پر شک نہ ہونے کا بھی ذکر کیا تھا۔

بعد ازاں پولیس ریکارڈ کے مطابق مدعی کے مزید بیان کی روشنی میں محمد نواز ولد محمد لیاقت سکنہ سنگریزی اور اس کے دیگر نامعلوم ساتھیوں کے خلاف خاتون اور بچوں کو مبینہ طور پر اغوا کرکے لے جانے کا الزام عائد کیا گیا۔

پولیس نے مدعی کے بیان کی روشنی میں مقدمہ درج کرتے ہوئے پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 365-B اور 34 کے تحت کارروائی شروع کی۔ ایف آئی آر میں معاملہ تفتیش کے لیے انویسٹی گیشن اسٹاف کے حوالے کیے جانے کا بھی ذکر ہے۔

دوسری جانب لاپتا خاتون کی والدہ نے میڈیا کے سامنے آکر اپنی بیٹی اور چاروں نواسوں کی بازیابی کے لیے حکومت اور پولیس سے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔

خاتون کی والدہ کا کہنا ہے کہ بیٹی اور چار معصوم نواسے تین ماہ سے لاپتا ہیں اور خاندان ہر روز امید اور خوف کے درمیان زندگی گزار رہا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ماں اور بچوں کی تلاش کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں اور انہیں جلد بازیاب کرایا جائے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کی مختلف پہلوؤں سے تفتیش جاری ہے اور لاپتا افراد کی تلاش کے لیے اقدامات کیے جارہے ہیں۔ ایف آئی آر میں درج الزامات کی حتمی حیثیت کا تعین تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی ہوسکے گا۔

واضح رہے کہ ایف آئی آر کے مطابق واقعہ 28 مئی 2026 کو پیش آیا، جبکہ پولیس میں رپورٹ اور بعد کی کارروائی کے بعد مقدمہ درج کیا گیا۔ اہل خانہ تاحال اپنی بیٹی اور بچوں کی واپسی کے منتظر ہیں۔