ہری پور: سینیٹر روبینہ خالد کی ایت نور کے گھر آمد، اہلخانہ سے اظہار تعزیت
میری بیٹی کے قتل میں ملوث ملزمان کو سخت ترین سزا دی جائے، والد محمد شفیق کا سینیٹر روبینہ خالد سے مطالبہ
ہری پور: سینیٹر روبینہ خالد کی ایت نور کے گھر آمد، اہلخانہ سے اظہار تعزیت
ہری پور: چیئرپرسن بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام سینیٹر روبینہ خالد نے مبینہ درندگی کا نشانہ بننے والی ایت نور کے گھر پہنچ کر اہلخانہ سے تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کیا۔
اس موقع پر ایت نور کے والد محمد شفیق نے سینیٹر روبینہ خالد سے مطالبہ کیا کہ ان کی بیٹی کے قتل میں ملوث ملزمان کو سخت ترین سزا دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپنی بیٹی کے لیے انصاف چاہتے ہیں اور حکومت و متعلقہ اداروں سے فوری انصاف کی اپیل کرتے ہیں۔
ایت نور کے والد کا کہنا تھا کہ ان کی بیٹی کئی روز تک کنویں میں پڑی رہی، اس لیے وہ چاہتے ہیں کہ کیس میں ملوث ملزمان کو قانون کے مطابق ایسی سزا دی جائے جو دوسروں کے لیے عبرت بن سکے۔
سینیٹر روبینہ خالد نے ایت نور کے اہلخانہ سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے کہا کہ بچیوں کے ساتھ پیش آنے والے زیادتی اور تشدد کے واقعات انتہائی تشویشناک ہیں۔ انہوں نے ایت نور کے ساتھ پیش آنے والے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی جانب سے بھی متاثرہ خاندان کے ساتھ مکمل یکجہتی کا پیغام لائی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایت نور کے اہلخانہ کو قانونی اور عدالتی کارروائی میں ہر ممکن تعاون فراہم کیا جائے گا۔ ان کے مطابق قوانین موجود ہونے کے باوجود بعض خامیوں اور عملدرآمد کی کمی کے باعث ملزمان کو فائدہ پہنچتا ہے، جسے دور کرنے کی ضرورت ہے۔
روبینہ خالد نے کہا کہ بچوں اور نوجوانوں کی کردار سازی پر توجہ دینا ہوگی جبکہ معاشرے میں بڑھتے ہوئے جرائم اور خواتین و بچوں کے خلاف تشدد کی روک تھام کے لیے عملی اقدامات ضروری ہیں۔
انہوں نے ایت نور کیس میں پولیس کی کارروائی کو سراہتے ہوئے کہا کہ پولیس نے اپنی ذمہ داری پوری کرنے کی کوشش کی ہے، تاہم تفتیش کے دوران پولیس کو مختلف مشکلات کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔
سینیٹر روبینہ خالد نے کیس کو اجاگر کرنے میں میڈیا کے کردار کو بھی اہم قرار دیا اور کہا کہ معاشرے کو منشیات کے بڑھتے ہوئے رجحان کے خلاف بھی متحد ہوکر کام کرنا ہوگا، کیونکہ نوجوان نسل کا ایک بڑا حصہ نشے کی لعنت سے متاثر ہورہا ہے۔